Where the mind is without fear
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۰
کا نظام بظاہر خوف کی بات ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ امید کی بات ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو، تو وہ اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے۔ وہ اس کو بطور موقع (opportunity) اویل(avail) کرے ۔ اس طرح غیر تخلیقی گروہ تخلیقی گروہ بن جائے گا۔ برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1975-1889) نے 12 جلدوں میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام اسٹڈی آف ہسٹری (A Study of History) ہے۔ اس کتاب میں اس نے پوری دنیا کی 19 عظیم تہذیبوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ میں فطرت کا ایک نظام قائم ہے۔ جس کو اس نے چیلنج ۔ رسپانس میکانزم کا نام دیا ہے۔ یعنی حالات کے تحت ایک چیلنج پیش آتا ہے۔ اس کے بعد قوم کے اندر ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہلچل قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ غیر ترقی یافتہ قوم ترقی یافتہ قوم بن جاتی ہے۔ یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔
موجودہ زمانے میں اس واقعے کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان ایک کم ترقی یافتہ قوم بنی ہوئی تھی۔ پھر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ سیکنڈ ورلڈ وار میں اس پر دو ایٹم بم گرا دیے گئے ۔ اس واقعے کے بعد جاپان کی پوری قوم متحرک ہوگئی ۔ جاپان کے اندر ترقیاتی سرگرمی کا عمل جاری ہو گیا۔ میں نے خود اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جاپان کی صنعت کھلونا بنانے والی صنعت بنی ہوئی تھی ۔ جاپان میں بڑی ترقیاں نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ امریکا نے جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر 1945 میں دو ایٹم بم گرا دیے ۔ اس سے جاپان کے شہر برباد ہوگئے ۔ جاپان کی صنعت کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔ یہ ایک دھماکہ خیز عمل تھا۔ مگر اس دھما کہ خیز عمل نے پوری جاپانی قوم کو جگا دیا ۔ اس وقت جاپان کے اوپر ہیروہینو(Hirohito) کی حکومت تھی۔ ہیرو ہیٹو بہت پڑھا لکھا آدمی تھا۔ اس نے اس واقعے سے منفی سبق نہیں لیا، بلکہ اس سے مثبت سبق حاصل کیا۔ جنگ عظیم کے بعد 10 اگست 1945 کو ریڈیو پر اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم ایک نا قابل برداشت صورت حال سے دو چار ہیں۔ لیکن ہم کو اس نا قابل برداشت
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues