Al-Risala · January 2020 · page 24

چہ حاجت کہ نہ کرسی آسمان

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴

جگہ سے کٹا ہوا ہو، اور اس کی جڑیں زمین سے نہ کٹی ہوں تو یہ پودا اپنی جگہ پر مستقل سا ہو جاتا ہے، اس کا دڑ ق مگر بعد کے زمانہ میں انھوں نے شیراز میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اس وقت دوسرے شاعروں کی طرح ان کے تعلقات بھی دربارِ شاہی سے ہو گئے۔ اس وقت وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ انھوں نے بھی بادشاہوں کی مدح میں مبالغہ آمیز قصیدے لکھے۔ سلطان شیر از ، اتا بک ابو بکر بن سعد زنگی کی مدح میں وہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں : توئی سایۂ لطفِ حق بر زمیں پیمبر صفت رحمۃ للعالمیں (تم ہی زمین پر خدا کی مہربانی کا سایہ ہو، تم پیغمبر کی طرح دنیا والوں کے لیے رحمت ہو) اکثر انسان اپنے حالات کی پیدا وار ہوتے ہیں۔ اگر ان کے حالات بدل جائیں تو وہ خود بھی بدل جاتے ہیں۔

عبداللہ بن المبارک (وفات 181 ھ) کا ایک قول ہے: لَا يَزَالُ الْمَرْءُ عَالِماً مَا طَلَبَ الْعِلْمَ، فَإِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ، فَقَدْ جَهِلَ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر (308) ۔ یعنی آدمی اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک وہ علم سیکھتا رہے۔ جب وہ گمان کرے کہ وہ عالم ہو گیا تو پھر وہ جاہل ہو گیا۔ عباس محمود العقاد کہا کرتے تھے کہ علم پڑھنے کا نام ہے۔ وہ بہت افسوس کرتے تھے کہ اکثر لکھنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ وہ لکھتے ہیں (العقاد كان يقول : العلم هو القراءة۔ وكان ياسف ابلغ الاسف، لأن كثيرا من الكتاب يكتبون اكثر مما يقرأون )۔ رابطة العالم الاسلامی، رجب 1405 ھ ہندوستان کے دینی مدارس کے معلم یقیناً ایک اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسی نسل کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، جس سے دینی روایت کا تسلسل قائم ہے۔ اسی طرح یہ مدارس آزاد ہندوستان میں اردو کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، وغیرہ۔

مگر ہندوستان کے دینی مدرسوں میں جو ماحول ہے وہ معلمین کے فکری مستویٰ کو بلند نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page