Al-Risala · August 2020 · page 32

آزادی، ڈسپلن

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲

آزادی، ڈسپلن

قرآن میں اللہ کی صفت کو بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:21)۔ یعنی اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ جو بھی معاملہ کرے گا، وہ اعلیٰ رحمت کے مطابق ہوگا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی بھی رحمت کے خلاف معاملہ نہیں کرے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ بطور امتحان یہ بھی کیا کہ اللہ نے انسان کو پیدا کر کے اس دنیا میں رکھا، اور اس کو کامل آزادی دے دی، یہ کامل آزادی ایک انتہائی انوکھا اختیار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل آزادی کے باوجود اپنی آزادی کو ڈسپلن کے اندر استعمال کرے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ایک امانت دی ہے، جو کائنات میں کوئی بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (33:72)۔

امانت کیا ہے۔ امانت سے مراد اختیار و ارادے کی آزادی ہے۔ یہ اللہ رب العالمین کی خصوصیت ہے۔ اس بنا پر اس کو امانت کہا گیا ہے۔ اس خصوصیت کو اللہ رب العالمین نے عارضی طور پر انسان کو بطور آزمائش عطا کیا ہے۔ تا کہ انسان خود اپنے ارادے سے خدا کا تابعدار بنے، اور اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے، اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے، جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے، جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اختیار سے وہی کرنا ہے، جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کو خود اختیاری سے اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page