Al-Risala · August 2020 · page 33

آزادی، ڈسپلن

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳

اس کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہا جاسکتا ہے۔ خود اختیار کردہ اخلاقیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120)﴾۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقویٰ ہو تو تمھارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقویٰ ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لیے نقصان دہ (harmful) نہیں بنے گی۔

اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دینا ہے۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ امتحان کا یہ نظام کسی انسانی گروہ کی جانب مقرر کردہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہ راست طور پر خالق کائنات سے ہے۔ کسی اور کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خالق کائنات کے مقرر کیے ہوئے کورس کا خاتمہ کر سکے۔ لیکن اللہ نے آپ کے لیے اس دنیا میں یہ امکان ضرور رکھا ہے کہ اگر کوئی اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کر رہا ہے تو آپ سازش یا مخالفانہ تدبیر کو آزادی کے حدود میں رہتے ہوئے اپنی جوابی تدبیر سے غیر مؤثر بنا سکیں۔

مثلاً اگر آپ کو یہ شکایت ہے کہ پولیس آپ کے خلاف ہے، اور وہ آپ پر گولی چلاتی ہے تو آپ اس معاملے کا موضوعی انداز میں مطالعہ کیجیے۔ گہرے مطالعے کے ذریعے آپ دریافت کریں گے کہ پولیس کبھی ایسا نہیں کرتی کہ وہ خود سے آپ کے اوپر گولی چلائے۔ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر ماریں گے۔ اس کے بعد پولیس جوابی کارروائی کے طور پر آپ کے اوپر گولی چلائے گی۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر نہ ماریں۔ اس کے بعد پولیس آپ پر گولی بھی نہیں چلائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے قانون کے مطابق ناموافق صورت حال کا وجود کبھی ختم نہ ہوگا، البتہ دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعہ اس کو اپنے لیے بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page