قرآن کا طریق مطالعہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۶
(6) ہیومن بینگ (human bang) : آخری دور میں انسان وجود میں آیا، اور دھیرے دھیرے پورے زمین پر پھیل گیا۔ زندگی کی یہ مختلف صورتیں، الگ الگ وجود میں آئیں۔ ان چیزوں کے وجود میں آنے کے معاملے میں مفروضہ نظریہ ارتقا کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ان چھ ادوار کا ذکر قرآن میں اپنے مخصوص انداز میں آیا ہے۔ قرآن کا گہرا مطالعہ کرکے ان کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک پہلے دور کی بات ہے، وہ قرآن میں صراحت کی زبان میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی دو آیتوں میں بیان کی گئی ہے۔ پہلی آیت یہ ہے: أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا (21:30) ۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ دوسری آیت یہ ہے: أَفِي اللَّهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10) ۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ اس آیت میں فاطر کے معنی ہیں، پھاڑنے والا۔
پہلی آیت میں جس واقعے کو رَتْق اور فَتْق کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اسی کو دوسری آیت میں فاطر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ دونوں آیتوں میں لفظی فرق کے ساتھ ایک ہی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات ابتدا میں ایک کا سمک بال کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس کا سمک بال میں کائنات کے تمام پارٹکل موجود تھے۔ پھر ایک عظیم دھماکے کے ذریعے یہ تمام پارٹکل فضا میں پھیل گئے۔ پھر ایک لمبے عرصے اس کے ذریعے یہ تمام پارٹکل کائنات کے مختلف اجزا کی صورت میں جمع ہوئے ۔ یہ سارا معاملہ انتہائی منظم انداز میں ہوا۔ اس عمل کی کوئی توجیہہ اس کے سوا نہیں ہوسکتی کہ ایک قادر مطلق خدا نے ان تمام واقعات کو انجام دیا۔
قرآن کا طریق مطالعہ
قرآن معروف معنوں میں ایک مذہبی رسم کی کتاب نہیں ہے، وہ ایک ایسی کتاب ہے، جس میں پوری انسانی زندگی کے لیے رہنما تعلیمات دی گئی ہیں۔ قرآن کی رہنمائی عام انسانی کتابوں سے مختلف ہے۔ عام انسانی کتابوں کے لیے ریڈنگ (reading) کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues