Al-Risala · January 2020 · page 27

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ خون ہے۔ ہزاروں لوگ زخمی ہو کر اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی صحت کے لیے انھیں فوری طور پر خون پہنچانا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ایک رجسٹر رکھا گیا ہے۔ آپ میں سے جو لوگ خون دینا چاہیں، وہ رجسٹر میں اپنا نام لکھوادیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابھی فوراً خون نہیں لیا جائے گا، ابھی صرف نام اور پتہ لکھا جائے گا۔ جتنے آدمی نام لکھوائیں گے، ان کی فہرست یہاں ہم عرب سفارت خانہ میں دے دیں گے۔ اس کے بعد ان کے مطالبہ کے مطابق آپ حضرات کو خون دینے کے لیے بلایا جائے گا۔

مقرر نے اپنے اس اعلان کو بار بار دہرایا، اور ان کو نام لکھوانے پر ابھارا۔ مگر غالباً ہزاروں کے مجمع میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا، جس نے رجسٹر میں اپنا نام لکھوایا ہو۔ امریکی سفارت خانہ کے خلاف جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے والے اس وقت بالکل ٹھنڈے ہو گئے، جب انھیں اپنا خون دینے کے لیے پکارا گیا۔ ایک ایک شخص خاموشی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف واپس چلا گیا۔ نصف صدی پہلے امیر شکیب ارسلان (1946-1869) نے ایک عربی کتاب لکھی تھی، جو مندرجہ ذیل نام سے چھپی تھی :

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

(مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے، اور ان کے سوا دوسرے لوگ آگے ہو گئے)

مگر نصف صدی بعد بھی یہ سوال حل نہ ہو سکا۔ مجلہ رابطہ العالم الاسلامی (ریاض) کی اشاعت اپریل 1985 میں استاذ محمد عبد اللہ السمان کا ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان دوبارہ یہ ہے : لماذا تأخرنا وتقدّم غيرنا مضمون نگار نے لکھا ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں۔ وہ روم و ایران کی فتح اور بدر و حنین اور یرموک و قادسیہ کی فتوحات کا ذکر کر کے خوش ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خود ہم نے کیا کیا (ولكن ماذا فعلنانحن)۔ اس کے بعد انھوں نے یہ شعر لکھا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page