Al-Risala · January 2020 · page 28

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۸

ليس الفتى من يقول كان أبى ولكن الفتى من قال ها أنا ذا ( جوان وہ نہیں ہے جو کہے کہ میرا باپ ایسا تھا ، جوان وہ ہے جو کہے کہ یہ ہوں میں ) موجودہ دنیا میں ہر قوم نے اپنی قومی برتری کا ایک نعرہ اختیار کر رکھا ہے: ميراملک چاہے حق پر ہو يا نا حق پر جرمنی سب سے اوپر اٹلی مذہب ہے حکومت برطانیہ کے لیے ہے امریکہ خدا کا اپنا ملک ہے سفید آدمی کا بوجھ مختلف قوموں نے اسی طرح مختلف مختلف قوموں کے اسی طرح مختلف الفاظ بنا لیے ہیں، جن کو بول کر وہ اپنی قومی برتری کے جذبہ کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ الفاظ اگر چہ الگ الگ ہیں، مگر سب کی نفسیات ایک ہے۔ ہر ایک اپنی قوم کو اونچا سمجھتا ہے۔ ہر ایک قومی بڑائی کے احساس کو اپنی غذا بنائے ہوئے ہے۔ ایسے ماحول میں مسلمان اگر یہ کریں کہ وہ بھی اپنی بڑائی کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جائیں۔ ہمارا دین سب سے کامل، ہمارا نبی سب سے افضل، ہماری تاریخ سب سے شاندار، ہماری قوم خیر الأمم۔ اس طرح کے نعروں کے ساتھ اگر وہ دنیا کے سامنے آئیں تو وہ قومی بڑائیوں کے ٹکراؤ میں ایک اور قومی بڑائی کا اضافہ کریں گے۔ اس قسم کی باتیں صرف جوابی قومیت کے جذبہ کو ابھاریں گی۔ وہ دعوت اسلامی کے حق میں لوگوں کے دلوں کو نرم نہیں کر سکتی۔

اس قسم کے نعروں کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں نے اپنی قومی برتری کے جذبہ کو تسکین دینے کے لیے بنائے ہیں، اور چونکہ انھیں یہ درد نہیں ہے کہ دنیا کی قومیں خدا کے دین کے سایہ میں آئیں، وہ نہایت فخر کے ساتھ ان الفاظ کو دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں احساس نہیں دیں کے ہائے ہیں ، اس کی ہدایت کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page