Al-Risala · September 2020 · page 18

رسول اور اصحاب رسول

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۸

کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 610ء میں نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے نیک فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمہارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دی ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمہارا خاتمہ کر دیں گے۔

اس وقت قرآن میں، حالات کے سراسر خلاف، یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجا ئیں گے۔ رومی مورخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پر اسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ 623 ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔ 624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔

لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس دو طرفہ جنگ میں دونوں سلطنتیں انتہائی حد تک کمزور ہو گئیں۔ پہلے ساسانیوں نے رومیوں پر فتح حاصل کر کے ان کو کمزور کیا، اس کے بعد رومیوں نے ساسانیوں پر فتح حاصل کر کے انھیں بے حد کمزور کر دیا۔ اس طرح باری باری ایک نے دوسرے کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور تابعین کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قدیم جبری بادشاہت کے نظام کو بہ آسانی توڑ دے۔ چنانچہ خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی عمر کے زمانے میں جب مسلم فوجیں ساسانیوں اور رومیوں کے علاقے میں داخل ہوئیں تو انھوں نے نہایت آسانی کے ساتھ دونوں سلطنتوں کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ یہ خاتمہ صرف دو سیاسی طاقتوں کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اسی کے ساتھ شرک کا خاتمہ بھی تھا۔ کیوں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page