پولیٹیکل ماڈل
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
کہ یہ سلطنتیں اس زمانے میں مذہبی جبر کی سرپرست بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح ساتویں صدی اور آٹھویں صدی میں پوری دنیا کا سیاسی اور تہذیبی نقشہ بدل گیا، اور پھر ایک تاریخی عمل کے ذریعہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کا اعتراف فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کر دیا گیا:
(Islam) changed the face of the Globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, A History of Europe, London, 1958, p 46)
اس کے بعد یہ ہوا کہ جن علاقوں میں مشرک بادشاہ حکومت کرتے تھے، وہاں موحد حکمران حکومت کرنے لگے۔ اس وقت عملاً پوری دنیا میں مسلم ایمپائر کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، اسپینی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں قائم ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں ہر جگہ توحید کا چرچا ہونے لگا۔ لوگ بڑی تعداد میں شرک کو چھوڑ کر دین توحید میں داخل ہونے لگے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ اس زمانے کے رواج کے مطابق، عام طور پر انفرادی تبدیلی مذہب نہیں ہوتی تھی، بلکہ لوگ عام طور پر پبلک کنورزن (public conversion) کے اصول پر دین توحید میں داخل ہوتے تھے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، برٹش مورخ پروفیسر آرنلڈ (T W Arnold کی کتاب، دی پر یچنگ آف اسلام)۔
پولیٹیکل ماڈل
قرآن وحدیث، نیز اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں پالکس کا کوئی ایک متعین معیاری ماڈل نہیں۔ اسلام کی طویل تاریخ میں کوئی واحد عملی ماڈل نہیں ملتا، جس کو ہر دور کے لیے ایک اسٹینڈرڈ ماڈل سمجھا جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پالکس کے معاملے میں اسلام کا اصول تمکین (stability) پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایک معیاری ڈھانچے پر۔ مثلاً اسلام میں کوئی ایسی نص موجود نہیں، جس سے معلوم ہو کہ اسلام کا پولیٹیکل ماڈل خلافت پر مبنی ہے، یا حکومت الہیہ پر مبنی ہے، یا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues