Al-Risala · September 2020 · page 20

اہل ایمان کا رول

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۰

اجتماعی عدل پر مبنی ہے، یا شورائیت پر مبنی ہے، یا اور کسی ماڈل پر مبنی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا پولیٹیکل ماڈل، پریکٹیکل وزڈم پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایک آئیڈیل پر۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاست کے معاملے میں اصل چیز تمکین (الحج، 22:41) ہے، یعنی سیاسی استحکام (political stability)۔ کیوں کہ اگر پولیٹیکل استحکام آجائے تو اسلام کا اصل مطلوب حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر امن قائم ہوجائے تو اہل ایمان کے لیے یہ آسانی پیدا ہو جاتی ہے وہ مواقع (opportunities) کو بھر پور طور پر استعمال کر سکیں ۔ وہ تعلیم اور دعوت جیسے مثبت مقاصد کی منصوبہ بندی کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دے سکیں ۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس سال بعد مسلم دنیا میں عملاً شخصی حکومت قائم ہوگئی، جس کو ڈائناستی (dynasty) کہا جاتا ہے۔ اس حکومت کو اگر چہ بعض لوگوں نے یہ نام دیا کہ وہ خلافت کو منسوخ کر کے ملوکیت کو قائم کرنا تھا۔ مگر جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، علمائےامت نے اجتماعی طور پر اس کو قبول کر لیا، اور وہ تقریباً ہزار سال تک پوری مسلم دنیا میں جاری رہا۔ اس نظام کے خلاف بغاوت (revolt) کا کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس طرز حکومت نے مسلم دنیا میں پولیٹیکل استحکام قائم کر دیا، جس کے تحت اسلام کے تمام مطلوب کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائے۔ مثلاً قرآن کی حفاظت، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کی تشکیل، مسجد اور مدرسہ اور حج کا نظام، عربی زبان کی فنی تشکیل، سیرت اور تاریخ جیسے موضوعات پر کتب خانے کی ترتیب و تشکیل، اور اس طرح کے دوسرے عملی تقاضوں کی تکمیل، وغیرہ، وغیرہ۔ یہ تمام کام صرف سیاسی استحکام کے حالات میں انجام پاسکتے تھے۔ چوں کہ اس نظام کے تحت یہ مقصد حاصل ہوا، اس لیے عملاً پوری امت نے اس کو قبول کر لیا۔

اہل ایمان کا رول

مسلم دور میں یہ ہوا کہ ساری دنیا میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر دین شرک کے بجائے دین توحید کا چرچا ہونے لگا۔ پہلے اگر دنیا میں شرک اور اہل شرک کو وقت کے بادشاہوں کی سرپرستی حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page