Al-Risala · September 2020 · page 21

اہل ایمان کا رول

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۱

تھی تو اب توحید اور اہل توحید کو حکمرانوں کی سر پرستی حاصل ہونے لگی۔ اس طرح اصولی طور پر یہ ہوا کہ ہر جگہ دین شرک کا غلبہ تقریباً ختم ہو گیا، اور دین توحید کا غلبہ عام طور پر قائم ہو گیا۔ پہلے اگر مظاہر فطرت (nature) کو خدائی کا درجہ حاصل تھا، تو اب فطرت کے خالق کو خدائی کا درجہ حاصل ہو گیا۔ تاہم یہ اصل کام کا نصف حصہ تھا۔ فطرت (nature) کی اعتقادی بالادستی ختم ہو گئی۔ لیکن اس کام کا دوسرا پہلو بھی باقی تھا۔ یعنی فطرت (nature) کے قوانین کو دریافت کر کے ان کو ٹکنالوجی میں تبدیل کرنا۔ مسلم عہد میں یہ ہوا کہ فطرت (nature) پرستش کا موضوع (object of worship) نہ رہی۔ اب دوسرا کام یہ تھا کہ فطرت کو تحقیق کا موضوع (object of investigation) بنایا جائے، فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کر کے دنیا میں ٹکنالوجی کا دور لایا جائے، جو اپنی تکمیل تک پہنچ کر جدید تہذیب کا موجد بنے۔ یہ دوسرا کام یورپ کے مسیحی علما نے انجام دیا۔ صلیبی جنگیں مسلم فتوحات کے بعد تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں مسلم اقوام کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ اسی عروج کا ایک حصہ یہ تھا کہ مسیحی عقیدہ کے مطابق ایشیا میں ان کے مقدس مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ یہ صورت حال مسیحی قوموں کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر اس علاقے کو اپنے قبضہ میں لینے کے لیے حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مسیحی قوموں کے درمیان دو سوسال کی وہ لڑائی چھڑ گئی، جس کو صلیبی جنگ (Crusades) کہا جاتا ہے۔ مگر تقریباً دو سال کی خونی جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست پیش آئی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں مسیحی قوموں کو اس جنگ میں ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا سامنا کرنا پڑا۔

مسیحی قوموں کے لیے یہ شکست اتنی فیصلہ کن تھی کہ عملاً ان کے لیے یہ آپشن باقی نہ رہا کہ وہ اس صلیبی جنگ کو مزید جاری رکھ سکیں ۔ اس شکست نے یورپ کی مسیحی قوموں میں یہ سوچ بیدار کی کہ ان کے لیے مسلمانوں کے مقابلے میں جنگ کا آپشن باقی نہیں رہا۔ حالات کے دباؤ (compulsion)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page