Al-Risala · September 2020 · page 22

شہادتِ اعظم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

پاش پاش (مجموعہ کلام) ، پرواز ملک، ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، کے تحت انھوں نے اپنے لیے نیا آپشن (new option) تلاش کیا۔ یہ آپشن تھاـ جنگی میدان کے بجائے علم کے میدان میں اپنی کوشش لگا دینا۔ ان کے اندر فطرت (nature) کی تحقیق کا ذہن پیدا ہوا۔ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ مسیحی قوموں کا ذہن جو جنگ کی اصطلاح میں سوچتا تھا، وہ اب فطرت کی دریافت کی اصطلاح میں سوچنے لگا۔ یہ عمل تقریباً پانچ سو سال تک جاری رہا۔ اس عمل کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ واقعہ ہے، جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مسیحی قوموں کے لیے یہ ایک ڈائیورزن (diversion) تھا، جو بہ ظاہر خدائی مداخلت جاتا ہے۔ اس بارے میں یہ ایک (diversion) کا مرتبہ (divine intervention) کے ذریعہ پیش آیا۔

شہادتِ اعظم

اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 1: اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا نام دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئے گا، یعنی شہادت اعظم کا واقعہ۔ شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔ گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہو کر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت رپو رٹ جاری رھا ہے - میں انداز کے اس کام کو انجام دیا۔

انداز بذریعہ تائید

قرآن، خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ (authentic source) سے خداسے دین کے قرآن خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ (authentic source) ہے۔ خدا کے دین کے لیے یہ مطلوب ہے کہ وہ سارے عالم میں پھیلے۔ پھیلنے کا یہ عمل دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے۔ انداز ك |

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page