Al-Risala · September 2020 · page 23

انداز بذریعہ تائید

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

اور تائید ۔ پہلے طریقے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اور دوسرا طریقہ حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے ۔ پہلا طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (1: یعنی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔

دین کی اشاعت کے اس عمل کو قرآن میں انذار کا عنوان دیا گیا ہے۔ انذار کا مطلب ہوتا ہے آگاہ کرنا، باخبر کرنا۔ عربی زبان کے مشہور عالم ابن فارس (وفات 395ھ) نے انذار کا مطلب ابلاغ بتایا ہے (معجم مقاییس اللغۃ، جلد 5، صفحہ 414)۔ یعنی خدا کے منصوبہ تخلیق سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ عمل بہت زیادہ سنجیدہ عمل ہے۔ وہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کر دیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیر اہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔

اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062) ۔ ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہلِ دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اور منصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔ تاریخ کے دو بڑے ادوار انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں۔ ایک، سائنسی انقلاب سے پہلے کا دور، اور دوسرا، سائنسی انقلاب کے بعد کا دور۔ وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، وہ اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page