انداز بذریعہ تائید
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴
(1564-1642) کے بعد شروع ہوا، اور اب تک جاری ہے۔ قبل سائنس دور میں استدلال کی بنیاد عقل عام (common sense) ہوا کرتی تھی۔ بعد از سائنس دور میں استدلال کی بنیاد ریزن (reason) ہوگئی۔ قدیم زمانے میں عقل عام استدلال کے لیے کافی ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب سائنسی طور پر مسلمہ ریزن (accepted reason) استدلال کے واحد بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ رب العالمین کو معلوم تھا کہ تاریخ میں یہ انقلاب آنے والا ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ قبل از سائنس دور میں عقل عام کی بنیاد پر دین خداوندی کی بات کو مدلل کیا جائے۔ لیکن سائنسی دور آنے کے بعد فطری طور پر اللہ کی منشاء یہ ہوئی کہ اللہ کے دین کو وقت کی مسلمہ دلیل (سائنسی دلیل) کی بنیاد پر پیش کیا جائے تاکہ انسان پر اللہ کی حجت قائم ہو سکے۔ ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دورِ آخر میں جو داعی لوگوں کے سامنے دین خداوندی کو پیش کرے گا، وہ حجیج (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937) ہوگا۔ حجیج کا مطلب بذریعہ دلیل کلام کرنے والا۔ یعنی وہ شخص جو عقلی دلیل (rational argument) کے ذریعہ اپنی بات پیش کرے۔ شہادتِ اعظم کے دور میں شاہد (گواہ) کی یہی صفت ہوگی۔ وہ مسلمہ دلیل (accepted reason) کی زبان میں لوگوں کے سامنے دین خداوندی کو پیش کرے گا۔
یہ سادہ بات نہ تھی۔ یہ بنائے استدلال میں تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ علم کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لایا جائے۔ عقل عام پر مبنی استدلال کو عقلی دلائل کے ذریعہ استدلال پر قائم کیا جائے۔ قیاسی استدلال کی جگہ سائنسی طور پر ثابت شدہ استدلال مسلمہ استدلال کا درجہ دیا جائے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اللہ رب العالمین کا منصوبہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت پوری طرح حفاظت دین کے کام میں مشغول ہو جائے۔ کیوں کہ آپ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کرنے کے لیے مکمل معنوں میں ایک محفوظ دین باقی رہے۔ امت محمدی نے اپنی کئی سال کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعہ دین اسلام کو مکمل طور پر ایک محفوظ دین بنا دیا۔ امت محمدی کا یہ رول پندرھویں صدی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues