انداز بذریعہ تائید
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵
عیسوی تک پوری طرح جاری رہا، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ اب دین کی حفاظت کے لیے مشین نے انسانی کوششوں کی جگہ لے لی۔
اب وہ وقت آگیا تھا جب کہ خدا کے دین کو انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ثابت شدہ بنایا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا کام تھا۔ اس کام کے لیے ایک تازہ دم قوم (fresh nation) کی ضرورت تھی۔ حدیث میں اس قوم کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اس دین میں سے نہ ہوں گے (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں "رجال" سے مراد ایسا گروہ ہے جو کہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے لیے عقلی تائید (rational support) کا کام کرے گا۔ یعنی ان کے ذریعے اہل اسلام کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دین خداوندی کی دعوت کا کام سائنسی طور پر ثابت شدہ عقلی دلیل کی بنیاد (rational basis) پر انجام دے سکیں۔
مزید غور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تائیدی گروہ مغرب کے مسیحی لوگوں کا گروہ ہے۔ نشأہ ثانیہ (renaissance) کے بعد مغرب کی قوموں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعہ تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کیا، جس کو سائنسی دور (scientific age) کہا جاتا ہے۔ سائنسی دور اگرچہ زیادہ تر مسیحی قوموں کی کوشش سے وجود میں آیا۔ لیکن پورے معنوں میں یہ موافق اسلام دور ہے۔ یہ امت کو اپنے دین کے لیے وہی تائید فراہم کرتا ہے، جس کو اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے بعد کے زمانے میں پیش آنے والی اس شہادتِ اعظم کا ذکر خود قرآن میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر پوری طرح ظاہر ہو جائے کہ یہ حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق اور انفس کی آیات (signs) کہا گیا ہے، وہ موجودہ کائنات میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، مگر قرآن میں ان کا ذکر اشارات کی زبان میں ہے۔ ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues