تخلیق، تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۶
اشارات کو اکچول (actual) بنانے کا کام موجودہ زمانے میں انجام پایا ہے۔ کام زیادہ تر مغرب کی مسیحی قوموں نے انجام دیا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ شہادتِ اعظم کی ادائیگی کا کام اگرچہ عملاً امت محمدی کے لوگ انجام دیں گے۔ لیکن اس کام کی انجام دہی کے لیے تائیدی اسباب بلاشبہ مغرب کی مسیحی قوموں نے فراہم کیے ہیں۔ گویا کہ شہادتِ اعظم کے کام میں ملتِ محمدی کا رول شاہد کا رول ہے، اور مسیحی اقوام کا رول مؤید کا رول ہے۔
تائید کا یہ ظاہر ہ بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ خالق نے ہماری زمین (planet earth) کو بے شمار ٹکنالوجی سے بھر دیا ہے۔ یہ ٹکنالوجی قوانینِ فطرت کی صورت میں ہمیشہ سے موجود تھی۔ لیکن اب تک وہ مخفی قوانین (hidden laws) کی صورت میں غیر دریافت حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ صلیبی جنگوں کی شکست سے یورپ کی مسیحی قوموں کے لیے ایک جبر (compulsion) پیدا ہوا۔ انھوں نے حالات کے دباؤ کے تحت اپنی ساری طاقت فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے میں لگا دیا۔ یہ عمل اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei [1564-1642]) کے زمانے میں شروع ہوا، اور تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ اس دوران بے شمار فطری قوانین دریافت ہوئے۔ یہاں تک کہ دنیا میں وہ عظیم انقلاب پیدا ہوا، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
تخلیق، تہذیب
مادی دنیا کی ہر چیز میں ایک پہلو تخلیق کا ہے، اور دوسرا پہلو تہذیب کا۔ مثلاً لوہا (iron) خدا کی ایک تخلیق ہے۔ مگر انسان جب لوہا اور ربر (rubber) سے پہیہ (wheel) بناتا ہے تو یہ انسانی تہذیب کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ لوہا اور ربراگر خالق کی یاد دلاتا ہے تو یہ پہیہ انسان کی یاد دلاتا ہے، جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے پہیہ بنایا۔
ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ (سنن الترمذی،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues