لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۰
امکانات میں کھویا رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ ترین معیار زندگی کا حامل بنانا چاہتا ہے۔ یہ جذبہ آدمی کو دین کے معاملے میں بخیل اور بز دل بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے مال کو بچاتا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کے مستقبل کو سنوارے۔ وہ اپنے وجود کو ہر خطرہ کے مقام سے دور رکھتا ہے، تاکہ بچوں کے بارے میں اس کا منصوبہ نامکمل نہ رہ جائے۔ سورہ انعام (آیت 141) میں اسراف سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں:
”قرآن مجید کا ایک اعجاز یہاں یہ ہے کہ احکام کے جزئیات بلکہ بعض اوقات تو جزئیات در جزئیات کے ضمن میں وہ ایسے حکیمانہ کلیات واصول بیان کر جاتا ہے، جو زندگی کے سارے ہی شعبوں پر یکساں منطبق ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی چلتے چلتے ایک ایسا چٹکلا بیان کر دیا کہ انسان اگر اسی ایک پر عمل کرلے، تو اخلاق، معاملات، سیاسیات، معاشرت، غرض کیا انفرادی اور کیا اجتماعی ہر زندگی کے سارے شعبوں کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں، اور بڑے سے بڑے پتھر پانی ہو کر رہ سکتے ہیں۔ (تفسیر ماجدی، جلد دوم صفحہ 466)۔
قرآن بلاشبہ ایک اعجازی کلام ہے۔ مگر یہ اعجاز قرآن کی تصغیر ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن چٹکلے بیان کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں جس چیز کو چٹکلا کہا گیا ہے، وہ لا تسرفوا (اسراف نہ کرو) ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک عجیب بات ہے۔ کیوں کہ اُسراف نہ کرو ایک اہم شرعی اصول ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی چٹکلا۔
ایک صاحب تشریف لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ میں خدا اور گاڈ (God) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کو بند ہونا چاہیے اور اردو اور انگریزی دونوں الرسالہ میں صرف اللہ استعمال ہونا چاہیے ۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ خدا اور گاڈ دونوں لفظوں کی جمع آتی ہے۔ جب کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues