لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱
اللہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی جمع نہیں۔
آج کل مسلمانوں میں یہ رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ حتیٰ کہ انگریزی میں لوگ ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ لکھتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ قومی جنون ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کہ معلوم ہے کہ اللہ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایجاد نہیں کیا۔ یہ پہلے عربوں میں موجود تھا۔ قدیم عرب نے اگر چہ اللہ کی لفظی جمع نہیں بنائی، مگر اس کی معنوی جمع انھوں نے بنا رکھی تھی۔ یعنی اللہ کو مانتے ہوئے وہ اس کے شرکاء کو بھی مانتے تھے۔ اس طرح اللہ کا لفظ قدیم عرب کے پس منظر میں شرک کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ مگر قرآن نے جب اس کو خالص توحید کے معنی میں استعمال کیا، تو وہ توحید کے مفہوم کا حامل بن گیا۔ الفاظ کی معنویت ان کے استعمال سے متعین ہوتی ہے اور اسلامی کتابوں میں خدا اور گاڈ کا لفظ اسلامی استعمال کے اعتبار سے ہے نہ کہ جاہلی استعمال کے اعتبار سے۔ انگریزی میں ”اللہ سبحانہ و تعالیٰ لکھنا ایک قسم کا جنون (fanaticism) ہے۔ میرا ذوق یہ ہے کہ اس معاملہ میں ادبی تقاضوں کو اہمیت دینی چاہیے۔ ادبی تقاضوں کو اہمیت نہ دینے کا نقصان یہ ہے کہ عبارت کا زور گھٹ جاتا ہے۔
قرآن کی سورہ الفتح (آیت 10) میں ہے: ﴿وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ (48:10)۔ یعنی اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے۔
یہاں عربی نحو کے عام قاعدہ کے مطابق عَلَيْهِ کی ”ہ“ زیر ہونا چاہیے، یعنی عَلَيْهِ پڑھا جانا چاہیے، نہ کہ عَلَيْهُ۔ اس غیر معمولی اعراب پر تفسیر کی کتابوں میں لمبی بحثیں کی گئی ہیں، اور مختلف طریقوں سے اس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر ایک اہم پہلو اور ہے، جو تفسیر کی کتابوں میں نہیں آیا ہے۔ وہ ہے قرآن کا کامل طور پر محفوظ ہونا۔
قرآن کو صحابہ کرام نے اور بعد کے لوگوں نے کامل طور پر محفوظ رکھنے کا انتہائی حد تک اہتمام کیا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی آواز کو بھی پوری طرح محفوظ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues