Al-Risala · January 2020 · page 32

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲

کا کوئی حصہ اترتا، تو اسی وقت فورا اس کو لکھ لیا جاتا تھا۔

اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت نماز کے اندر یا نماز کے باہر جس طرح ہوتی تھی، اس کی کامل نقل کی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آیت میں صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عَلَيْہِ پڑھتے ہوئے سنا، تو عین اسی طرح اس کو محفوظ کر لیا اور بعد کی نسلوں کو اسی طرح منتقل کرتے رہے۔ قرآن کے بعد جو نحو مرتب ہوئی اس میں ایسے موقع پر زیر کا اصول درج کیا گیا، یعنی عَلَيْہِ۔ مگر چودہ سو سال تک کسی نے ایسا نہیں کیا کہ معروف نحوی قاعدہ کے مطابق بنانے کے لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَيْهِ لکھے یا اس کو عَلَيْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جا رہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔ کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔

اجمیر کے قریب ایک پہاڑی علاقہ ہے، جس کو میرات کہا جاتا ہے۔ یہاں مسلمان معقول تعداد میں آباد ہیں۔ مگر سب ان پڑھ اور پس ماندہ ہیں۔ وہ دین اور تہذیب دونوں سے دور ہیں۔ تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہے مجھے اس علاقہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ دو مولوی صاحبان اور تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اپنے میزبان کے گھر کی چھت پر پڑھی۔

میرے ساتھ جو مولوی صاحبان تھے، وہ اس انتظار میں تھے کہ میزبان نماز کے بعد چائے لے کر آئے گا۔ مگر میزبان نماز کے بعد ہم سے رخصت ہو کر گیا، تو وہ دوبارہ واپس نہیں آیا۔ انتظار کرتے کرتے عشا کا وقت ہو گیا۔ ہم لوگ عشا کی نماز پڑھ کر بیٹھ گئے، مگر بدستور میزبان کا پتہ نہ تھا۔ میرے ساتھی جو اس سے پہلے چائے کے منتظر تھے، اب بھوک سے بے تاب ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کافی انتظار کے بعد میزبان بڑے سے برتن میں کھانا لے کر آیا۔ میرے ساتھی خوش ہوئے کہ آخر کار انتظار ختم ہوا۔ مگر ان کی خوشی دیر تک باقی نہیں رہی۔ میزبان نے برتن سے کپڑا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page