Al-Risala · January 2020 · page 34

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۴

اکثر یہ صورت پیش آتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کھانے کا کوئی سامان موجود نہیں ہے۔ کسی انصاری کو پتہ چلا تو وہ آپ کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو بلا کر اپنے گھر لے گیا۔ وہ گھر کے اندر کھانا لانے کے لیے گیا، تو معلوم ہوا کہ گھر کے اندر صرف کوئی ایک یادو چیز ہے، وہ اس کو اٹھا لایا، اور شرمندگی کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا، اور کہا یا رسول اللہ اس وقت یہی ہے، آپ اس کو تناول کیجیے۔ آپ نے کھانے کو دیکھا، تو آپ کی ایمانی شرافت حوصلہ افزائی کے کلمات میں ڈھل گئی۔ آپ نے یہ کہہ کر اس کو ذوق وشوق کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، اور کہا: یہ تو بہترین چیز ہے، اس سے اچھی کوئی چیز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذاؤں کے سلسلے میں جو حدیثیں آتی ہیں، ان کی حقیقت بس یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے اقوال دراصل وہ کلمات ہیں، جو ایک شریف آدمی اپنے میزبان کے دستر خوان پر کہتا ہے۔ یہ میزبان کی نسبت سے ہے، نہ کہ کھانے کی نسبت سے۔

محمد المجدوب (1999-1907) ایک شامی ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کی تین جلدوں میں ایک کتاب ہے، جس کا نام ہے: علماء ومفکرون عرفتھم اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے : أقيمو دولتكم على قلوبكم يقيم الله دولتكم على الناس۔ یعنی تم اپنے دلوں کے اوپر اپنی حکومت قائم کرو، اللہ تمھاری حکومت لوگوں کے اوپر قائم کر دے گا۔ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا سیاسی اقتدار انھیں لوگوں کو دیتا ہے، جو اپنے آپ کو خدا کی نظر میں اس کا اہل ثابت کریں۔ اس حقیقت کو علامہ ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : اللہ ينصر الدولة العادلة وإن كانت كافرة، ولا ينصر الدولة الظالمة وإن كانت مؤمنة (الحسبة في الاسلام، صفحه (7) ۔ یعنی اللہ عادل حکومت کی مدد کرتا ہے خواہ وہ کافر ہو اور وہ ظالم حکومت کی مدد نہیں کرتا خواہ وہ مومن ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page