Al-Risala · January 2020 · page 35

لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵

صحابی رسول بشیر بن خصاصیہ کا واقعہ ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ سرکاری عمال صدقہ لینے میں ہم پر زیاد تیاں کرتے ہیں (اِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا)، کیا ہم اپنے مال میں سے زیادتی کے بقدر چھپالیں، بشیر بن خصاصیہ نے کہا: نہیں (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1586)۔ اسی طرح سعد بن ابی وقاص کی ایک روایت میں ہے: اَدْفَعُوهَا اِلَيْهِمْ مَا صَلَّوْا الْخُمْسَ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (343) یعنی جب تک وہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، زکوٰۃ انھیں دیتے رہو۔ بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظام خلافت بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اتر آئے، تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوٰۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں۔ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انھیں کو دینی چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک شخص نے پوچھا، اب زکوٰۃ کس کو دیں۔ کہا، وقت کے حاکموں کو۔ انھوں نے کہا: وہ تو زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کر ڈالتے ہیں (اِذَا يَتَّخِذُونَ بِهَا ثِيَابًا وَطِيبًا)۔ ابن عمر نے کہا: وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِيَابًا وَطِيبًا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 10191)۔ یعنی اگر چہ وہ کپڑے اور عطر لے لیں (پھر بھی تم انھیں کو زکوٰۃ دو)۔ صحابہ نے یہ جو کہا، یہ کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں کہا۔ در حقیقت یہی اسلام کا حکم ہے۔ مسلمان کی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اگر مسلم حکمرانوں میں خرابی نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر نا جائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ مجرم ہیں۔

صهیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page