لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۷
کہا جاتا ہے۔ یہیں سے افغانستان میں باقاعدہ روسی تسلط کا آغاز ہوا۔
یہ ایک ہی کہانی ہے، جو تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جارہی ہے۔ مصر میں الاخوان المسلمون نے شاہ فاروق (1965-1920) کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی افسروں کا ساتھ د۔ بعد کو ان فوجی افسروں نے حکومت پر قابض ہو کر اس سے زیادہ ظلم کیا، جو شاہ فاروق کر سکتا تھا۔ پاکستان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی (1979-1903) صدر ایوب (1971-1907) کو ہٹانے کے لیے بھٹو (1979-1928) کے ساتھ متحد ہوگئے۔ مگر جب صدر ایوب کا خاتمہ ہوا، تو اس کے بعد پاکستان میں بھٹو کے تحت پہلے سے بھی زیادہ ظالمانہ حکومت قائم تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عقل چھن گئی ہے۔ وہ بار بار ایسے اقدام کرتے ہیں جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں ان کے لیے برآمد ہو۔
حمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں یزید کی ولی عہدی کے وقت حضرت بشیر کے پاس گیا، جو صحابہ میں سے تھے۔ میں نے ان سے یزید کے بارے میں اظہارِ خیال کے لیے کہا۔ انھوں نے کہا: يقولون : إنما يزيد ليس بخير أمة محمد - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنا أقول ذلك، ولكن لأن يجمع الله أمة محمد أحب إلي من أن تفتحق ( تاریخ الاسلام للذہبی ، جلد 4، صفحہ 87 ) ۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد کے بہتر لوگوں میں سے نہیں ہے، اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن امت محمدی کا اتفاق سے رہنا، مجھے افتراق کی بنسبت زیادہ پسند ہے۔
جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا یا اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام زندہ موجود تھے۔ مثلاً حسین بن علی، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبد الرحمن بن ابی بکر اور دوسرے بہت سے جلیل القدر افراد ملت کے اندر موجود تھے۔ ایسی حالت میں یزید کو خلیفہ بنانا سخت قابل اعتراض ہو سکتا تھا۔ مگر تمام صحابہ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ حضرت حسین کے سوا کسی نے بھی یزید کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ اصحاب رسول کی یہ خاموشی یقینی طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues