لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶
تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی ۔ بعد کو صیہون کا لفظ عمومی طور پر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہا جاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریک صیہونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہو جائے۔ یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی الفاظ کس طرح قومی تحریکوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہودی اپنی موجودہ فلسطینی تحریک کو صیہونیت (Zionism) کہتے ہیں۔ یہودی روایت کے اعتبار سے ان کے لیے غالباً یہ سب سے زیادہ مفید مطلب نام ہے۔ یہی چیز آج مسلمانوں میں بھی مختلف اعتبار سے پیدا ہو گئی ہے۔ وہ خالص قومی تحریکیں چلاتے ہیں، اور مقدس ظاہر کرنے کے لیے اس کو کوئی اسلامی نام دے دیتے ہیں۔ مگر جو چیز یہودیوں کے لیے بری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے کس طرح اچھی ہو جائے گی۔
افغانستان کے سابق حکمراں ظاہر شاہ (2007-1914) کے زمانہ میں سردار داؤد شاہ خان (1909-1978) وزیر فوج تھے۔ انھوں نے جولائی 1973 میں فوجی انقلاب کیا، اور ظاہر شاہ کو ملک بدر کر کے خود حکومت سنبھال لی۔ سردار داؤد کو اپنے اس مقصد کے لیے کمیونسٹ پارٹی (خلق) کی مدد لینی پڑی، جو 1965 میں قائم ہوئی تھی، اور جس کا لیڈر نور محمد ترہ کی (1979-1917) تھا۔ افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی سطح پر سردار داؤد کے انقلاب کی حمایت کی۔ اس کے بعد سردار داؤد اور نور محمد تڑہ کی (Nur Muhammad Taraki) میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔ آخر کار تقریباً ساڑھے چار برس بعد دوبارہ انقلاب ہوا۔ اپریل 1978 میں خلق پارٹی نے روسیوں کی مدد سے بغاو ت کردی۔ سردار داؤد مع اپنے اہلِ خاندان قصر صدارت میں مارڈالے گئے، اور نور محمد تڑہ کی بر سر اقتدار آئے۔ اس طرح افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب آیا، جس کو مقامی زبان میں انقلابِ نور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues