تعمیرِ شخصیت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۷
تعمیرِ شخصیت
فطرت کے ایک قانون کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۔ اَلَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (157-155: 2)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں مصیبت کا مطلب اعلیٰ درجے کی تربیت ہے۔ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تخلیق کیا ہے۔ خالق نے انسان کو غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر جو صلاحیت ہے، وہ بالقوۃ (potential) کے روپ میں ہے۔ اس پونشل کو بالفعل (actual) بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ خالق کو انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے فطری امکانات کو دریافت کرے، اور اپنے خالق کا اعتراف کرتے ہوئے زمین پر ایک ربانی تہذیب وجود میں لائے۔
اس معاملے کو سترھویں صدی کے سائنس داں نیوٹن کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ نیوٹن کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اس کے سر پر ایک سیب گرا۔ نیوٹن کے سر پر سیب کا گرنا ایک مصیبت تھی۔ مگر نیوٹن نے اس کو ایک تجربے کے طور پر لیا، اور اس سے وہ سائنسی اصول دریافت کیا، جس کو آج قوت کشش کے نام سے جانا جاتا ہے۔
خالق نے انسان کو اس زمین پر غیر معمولی عطیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان عطیات کو قابل