Al-Risala · May 2020 · page 14

بڑھاپے کی عمر

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴

فطرت کا نظام

قرآن میں والدین کا حقوق بیان کرتے ہوئے یہ بیان آیا ہے : وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (17:24) ۔ یعنی اور کہو کہ اے رب، ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے مجھے بچپن میں پالا۔ یہاں دعا کی تعلیم دیتے ہوئے فطرت کے ایک اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ اصول فطرت کے ایک نظام کو بتاتا ہے۔

خالق نے زندگی کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اور پھر بڑھاپے کے عمر کو پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں، اور کچھ دوسرے لوگ زندگی کے کاروبار کو سنبھالتے ہیں۔ تخلیق کے اس نظام میں ہر آدمی اپنی زندگی میں دو بار جسمانی ضعف (physical weakness) کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلی بار بچپن کی زندگی میں، اور دوسری بار بڑھاپے کے دور میں۔ فطرت کے اس نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ضعف کے زمانے میں ان کے ضعف کو سنبھالیں، اور بعد کو جو والدین اپنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں، اور اس وقت بچے بڑی عمر کو پہنچ چکے ہوں تو بچے اپنے والدین کا سہارا بنیں۔

یہ دو طرفہ نظام تخلیق کی فطری ضرورت کی بنا پر ہے۔ ابتدائی عمر میں انسان کو اس کے والدین کی ضرورت ہوتی ہے، اور زیادہ عمر کو پہنچنے کے بعد والدین کے لیے ان کی اولاد ان کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اس طرح تخلیقی نظام کے مطابق، دونوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ کمزوری کے زمانے میں ایک دوسرے کے ضعف کا بدل بنیں۔

یہ صرف ایک دوسرے کا بدل (substitute) بننے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے کو اپنا معلم (teacher) بنانے کا معاملہ ہے۔ بچے اپنے بڑوں کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے اندر اس صلاحیت کو پیدا کریں کہ وہ اپنے سماج کے کمزور لوگوں کے لیے ان کی کمزوری کا بدل بنیں۔ اسی طرح قوم کی نئی نسلوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے تجربات سے کس طرح فائدہ اٹھائیں ۔ گویا کہ یہ میوچول لرننگ (mutual learning) کا ایک فطری طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page