بڑھاپے کا پلس پوائنٹ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
بڑھاپے کا پلس پوائنٹ
ایک بار میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کولمبو گیا۔ وہاں ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر کھلی جگہ تھی، جہاں لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھتا تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ہوٹل کے اسٹاف کا ایک نوجوان آدمی میرے پاس آیا، اور بہت دیر تک میرے پاس بیٹھا رہا۔ اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ وہ برابر مجھ کو دیکھتا رہا۔ آخر میں اس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر مجھے اپنے دادا جی یاد آتے ہیں۔ کیوں کہ میرے دادا بھی دیکھنے میں آپ ہی جیسے تھے۔ زیادہ عمر ہونے کے بعد مجھے بار بار اس طرح کے تجربات ہوئے ہیں۔ جب آدمی کی عمر زیادہ ہوتی ہے، اس کے بال سفید ہو جاتے ہیں، اور اس کا حلیہ بزرگ آدمی کا حلیہ بن جاتا ہے تو اس کے اندر لوگوں کے لیے ایک خاص اہمیت پیدا ہو جاتی ہے۔ زیادہ عمر کے آدمی کا مطلب ہے بزرگ (senior) آدمی۔ بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ تجربہ کار آدمی، بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ ہمدرد آدمی، بزرگ آدمی کا مطلب ہے زیادہ باخبر آدمی۔ یہ چیز بزرگ آدمی کو لوگوں کی نظروں میں زیادہ قابل توجہ آدمی بنا دیتی ہے۔
زیادہ عمر کا آدمی سماج کے لیے زیادہ کارآمد آدمی ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظروں میں ایک مشفق آدمی بن جائے۔ وہ سخت کلامی کو بالکل چھوڑ دے۔ وہ صرف یہ کرے کہ وہ نرمی کے انداز میں کوئی نصیحت کی بات کہہ دے، وہ لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھے، وہ ان کے لیے دعا کے الفاظ بولے۔ زیادہ عمر کا آدمی سماج کے لیے ایک سرمایہ (asset) ہے۔ بشرطیکہ زیادہ عمر کا آدمی اپنے اس پہلو کو جانے، اور اس کو سمجھداری کے ساتھ استعمال کرے۔
زیادہ عمر کا آدمی پورے سماج کا ایک بزرگ ممبر (senior member) ہوتا ہے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ بزرگ آدمی کو چاہیے کہ وہ محبت کے ساتھ دوسروں کو اپنی زندگی کے تجربات بتائے۔ وہ اپنی پختگی (maturity) کو اگلی نسلوں تک منتقل کرے۔