Al-Risala · May 2020 · page 20

رخصت کا اصول

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۲۰

رخصت کا اصول

شرعی احکام میں ایک اصول وہ ہے، جس کو رخصت (concession) کا اصول کہا جاتا ہے، یعنی کسی حکم کی تعمیل میں تخفیف کر دینا۔ یہ اصول شریعت کے تمام احکام میں ہیں۔ رخصت کا لفظی مطلب ہے نرمی اور سہولت۔ جب کوئی شرعی عذر واقع ہو تو اس وقت رخصت پر عمل کرنا چاہیے۔ مثلاً اگر کسی آدمی کے لیے پانی کے استعمال سے بیماری کا ڈر ہو تو اس وقت پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے کے بجائے تیمم کر کے نماز پڑھنا، وغیرہ۔

آسانی کا یہ اصول صرف مریض کے لیے نہیں ہے، بلکہ زیادہ عمر والوں کے لیے بھی ہے۔ تخفیف (convenience) کا یہ اصول صرف رعایت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ اس کی ایک اہم مصلحت ہے، اور وہ مصلحت ہے ۔ زیادہ عمر والوں کو یہ موقع دینا کہ وہ عمر کے اعتبار سے معذور ہونے کے باوجود زیادہ مدت تک لوگوں کے لیے مفید بنے رہیں۔

زیادہ عمر کا مطلب پختگی (maturity) ہے، اس کا مطلب ناکارگی نہیں ہے۔ زیادہ عمر والا آدمی جسمانی اعتبار سے بلا شبہ کمزور ہو جاتا ہے، لیکن فہم و فراست کے اعتبار سے وہ دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہوتا ہے، جب کہ بڑھاپے کے ساتھ بیماری کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔ ایک انسان جب پختگی کی عمر تک پہنچتا ہے تو وہ زیادہ تجربہ والا بن جاتا ہے۔ اب اس کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مثلاً ایک مقرر اگر بوڑھا ہو جائے تو وہ کھڑے ہو کر بولنے سے معذور ہو سکتا ہے، لیکن وہ بدستور بیٹھ کر بول سکتا ہے۔ حتی کہ عبادت کے معاملے میں ایسا ہو سکتا ہے کہ بوڑھا آدمی ارکان کی ادائیگی میں رخصت پر عمل کرے، لیکن روح عبادت کے معاملے میں وہ دوسروں سے زیادہ بامعنی عبادت کرے ۔ کسی کام کی ادائیگی میں وہ زیادہ پلاننگ کے ساتھ کسی کام کو انجام دے۔ اسی طرح یہ ممکن ہے کہ بوڑھے آدمی کے پاس دوسروں کو بتانے کے لیے زیادہ معنی خیز باتیں ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page