بڑھاپے کا دور
الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۲۱
بڑھاپے کا دور
بڑھاپے کا دور اپنے امکانی استعمال کے اعتبار سے کسی انسان کے لیے خصوصی رحمت کا دور ہے۔ بڑھاپے کے دور میں عام طور پر جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن انسان کے سوچنے کی طاقت کم وبیش باقی رہتی ہے۔ بڑھاپے کے دور میں انسان مشقت کا کام (hard work) نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات کو لے کر سوچے، وہ اپنی زندگی کا محاسبہ (introspection) کرے ۔ وہ اپنے گزرے ہوئے لمحات پر غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے ۔ بڑھاپے میں کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کے اندر ندامت (repentance) کا احساس جاگے۔ بڑھاپے کے دور میں ری پلاننگ کا کام عام طور پر مشکل ہوتا ہے، لیکن ری تھنکنگ کا عمل پوری طاقت کے ساتھ جاری ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کی زندگی لمبی ہو جائے ، اور وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ بڑھاپے کی عمر کو ایک موقع کے طور پر لے۔ وہ بڑھاپے کی عمر کو زیادہ سے زیادہ آخرت کی سوچ میں گزارے۔ وہ اپنے لمحات کو سچی تو بہ میں گزارے۔ وہ قرآن وحدیث کا اس حیثیت سے مطالعہ کرے کہ قرآن وحدیث میں بڑھاپے کے دور کے لیے کیا نصیحت ملتی ہے۔ وہ اصحاب رسول کے حالات کا مطالعہ کر کے یہ جانے کہ اصحاب رسول نے اپنے بڑھاپے کے دور کو کس طرح گزارا۔ اصحاب رسول امت کے لیے ہر اعتبار سے ماڈل ہیں۔ ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اصحاب رسول کی زندگی سے سبق لے، اور اپنی آخری عمر میں وہ کرے، جو وہ اپنی ابتدائی عمر میں نہ کر سکا۔ بڑھاپے کا دور افسوس میں گزارنے کے لیے نہیں ہے۔ بڑھاپے کا دور اس لیے ہے کہ اگر آدمی نے اپنے ابتدائی دور میں اپنی جسمانی طاقت کو زیادہ استعمال کیا، تو اب وہ سوچنے کی طاقت (intellectual power) کو زیادہ استعمال کرے۔ اپنی زندگی کے پچھلے دور میں اگر اس نے اپنی دنیا کو تعمیر کرنے کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کیا ہے تو بڑھاپے کی عمر میں وہ اپنی آخرت کی تعمیر کے لیے زیادہ سرگرداں ہو جائے۔