(Preceding) ہو چکا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳
ہوں، اس کا مطلب ہے کسی لیڈر کا اپنی لیڈری کی قیمت پر قوم کا مستقبل بنانا۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے جنرل ڈیگال کی زندگی اس قربانی کی ایک مثال ہے۔ اس لیے میں نے انھیں کے نام سے ڈیگال ازم کی اصطلاح وضع کی ہے۔
جنرل ڈیگال (1970-1890) موجودہ صدی کے وسط میں فرانس کے حکمراں بنے۔ اس وقت فرانس یورپ کا مُرد بیمار‘‘بنا ہوا تھا۔ فرانس کے افریقی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ ان تحریکوں کو کچلنے میں خود فرانس کچل اٹھا تھا۔ فرانس کے بے شمار جوان مارے گئے تھے، اور اس کی اقتصادیات دیوالیہ کی حد کو پہنچ گئی تھی۔
فرانس کے افریقی مقبوضات اس کے لیے سرمایہ (asset) نہ تھے، بلکہ اس کے لیے بوجھ (liability) بن چکے تھے۔ مگر اس طرح کی چیزیں قوموں کے لیے پرستیج (prestige) کا مسئلہ بن جاتی ہیں، اور جو چیز پرستیج بن جائے، اس سے دست برداری کے لیے لوگ کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے۔
جنرل ڈیگال نے اس معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا۔ انھوں نے 60-1950 میں افریقہ کی تمام فرانسیسی نو آبادیات کو آزاد کر دیا۔ اس کے بعد 1962 میں الجیریا کو بھی آزاد کر دیا، جہاں زبردست تحریک آزادی چل رہی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جنرل ڈیگال سے سخت برہم ہو گئے ،حتیٰ کہ 1969 میں ڈیگال کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ اگلے سال جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں صرف چند آدمی شریک تھے۔ مگر جنرل ڈیگال نے خود مر کر فرانس کو زندگی دے دی۔ اس کے بعد فرانس تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہوا، یہاں تک کہ آج فرانس یورپ کا طاقتور ترین ملک شمار ہوتا ہے۔
مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ میں ایک پیدائشی سائنس داں (born scientist) ہوں تکنیکل معنوں میں نہیں بلکہ مزاج کے معنوں میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues