وأحياناً على بكرأخينا إذا ما لم نجد إلا أخانا
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰
کسی شخص کا قول ہے کہ غم پیچھے کی طرف دیکھتا ہے، پریشانی ادھر اُدھر دیکھتی ہے، اور عقیدہ اوپر کی طرف دیکھتا ہے:
انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ شخصیت پرست، اور حقیقت پرست۔
شخصیت پرست وہ ہے ، جو باتوں کو شخصیت کے اعتبار سے دیکھے۔ جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تائید نکلے ، اس کو وہ ٹھیک سمجھ لے ، اور جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تردید ہو رہی ہو ، اس کا وہ مخالف بن جائے۔
حقیقت پرست وہ ہے ، جو باتوں کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھے۔ جو بات دلائل سے درست ثابت ہو ، اس کو مانے ، اور جو بات دلائل سے درست ثابت نہ ہو ، اس کو رد کر دے۔ یہی دوسری قسم کے لوگ ہیں ، جو خدا کو پاتے ہیں ، جو آخری اعلیٰ حقیقت ہے۔ پہلی قسم کے لوگ ساری عمر شخصیت کے خول میں بند رہتے ہیں ، اور اسی میں مرجاتے ہیں۔ وہ اس لذتِ معرفت سے محروم رہتے ہیں ، جو حقیقت اعلیٰ کو پا کر کسی بندہ خدا کو حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایجنسی اور سبسکرائبرس حضرات توجہ دیں براہِ کرم اپنے پتہ کو چیک کر لیں اگر تصحیح کرنی ہو تو لفافہ پر پتہ کے مطابق مناسب نوٹ لکھ کر یا فون یا خط کے ذریعے اطلاع دیں ورنہ پرچہ ملنے میں رکاوٹ کا اندیشہ ہے۔ اگر کسی تصحیح کی ضرورت ہو تو الرسالہ آفس کو مطلع فرمائیں، تاکہ آپ کے پتہ کو درست کیا جاسکے۔ اطلاع دیتے وقت اپنا سبسکرپشن نمبر ضرور بتائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues