Al-Risala · January 2020 · page 49

وأحياناً على بكرأخينا إذا ما لم نجد إلا أخانا

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۹

یعنی جب میرا گھوڑا سواری کے قابل ہو جائے، تو خدا قبائل میں جنگ بھڑکادے (تاکہ میں اپنی بہادری کے جوہر دکھا سکوں)

عربوں کا یہ لڑنے بھڑنے کا ذہن اتنا بڑھا ہوا تھا کہ اگر دشمن لڑنے کے لیے نہ ملتا تو وہ آپس ہی میں لڑنے لگتے۔ ایک شاعر کہتا ہے:

وأحياناً على بكرأخينا إذا ما لم نجد إلا أخانا

یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی قبیلہ بکر پر (حملہ کر دیتے ہیں)، جب کہ ہم کو (لڑنے کے لیے) اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔

عربوں کی یہ بہادری (حماسہ) ان کا بہت بڑا جوہر تھی۔ اسلام سے پہلے ان کی اس بہادری کا کوئی بلند نشانہ انھیں معلوم نہ تھا۔ اسلام نے انھیں ایک بلند نشانہ دے دیا۔ چنانچہ انھوں نے عالم میں انقلاب برپا کر دیا۔

عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ تجربہ کرنے والے سے معلوم کرو، عقل مند سے نہ پوچھو: سل المجرب ولا تسئل الحكيم یہاں حکیم (عقل مند) سے مراد وہ انسان ہے، جس کو صرف نظریاتی جانکاری حاصل ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ باتوں کو وہی شخص جانتا ہے جس پر تجربہ گزرا ہو۔ جو شخص صرف نظریاتی واقفیت رکھتا ہو، وہ اصل حقیقتوں سے اسی طرح بے خبر رہتا ہے، جس طرح کاغذ کی کوئی کتاب زندگی کے عملی معاملات سے بے خبر ہو۔

مگر اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ تجربہ کار کے بتانے کے باوجود آدمی باتوں کو سمجھ نہیں پاتا۔ آدمی کسی بات کی حقیقت صرف اس وقت سمجھتا ہے، جب کہ اس پر خود ذاتی تجربہ گزرے۔ جب کہ وہ تجربہ کر کے نقصان اٹھا چکا ہو۔ ذاتی طور پر تجربہ کی چکی میں پسنے سے پہلے بمشکل ہی کوئی شخص باتوں کی حقیقت کو سمجھ پاتا ہے۔ چاہے لفظی طور پر اس کو کتنا ہی زیادہ سمجھایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page