الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۶
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۶
24 کروڑ سال میں پورا کرتا ہے۔ یعنی سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظامِ شمسی کو 24 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں، اور ہر کہکشاں کے اندر کئی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں ملکی وے میں 200 سے 400 ارب ستارے ہیں۔
کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی، جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، زمین تک اس کو پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔
اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرامِ سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اجرامِ سماوی کی باہمی کشش‘ کے لفظ کی معنویت آدمی سمجھ لیتا ہے مگر خدا‘ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ قدیم زمانہ میں شرک اس طرح پیدا ہوا کہ لوگوں نے جس چیز کو بظاہر نمایاں دیکھا، اسی کو خدا سمجھ کر وہ اسے پوجنے لگے چاند سورج کی پرستش اسی طرح شروع ہوئی۔
اس اعتبار سے شرک، مظاہرِ کائنات کو سببِ کائنات قرار دینے کا دوسرا نام ہے۔ مثلاً قدیم عرب میں شعریٰ کی پرستش ہوتی تھی، جس کا ذکر قرآن کی سورہ النجم (آیت 49) میں آیا ہے۔ شعریٰ (Sirius) دکھائی دینے والے ستاروں میں سب سے زیادہ روشن ستارہ ہے۔ وہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے، اور شمسی نظام سے اس کا فاصلہ آٹھ نوری سال سے زیادہ ہے۔ Sirius کا لفظ اصلاً یونانی زبان سے آیا۔ جس کے معنی چمک دار کے ہوتے ہیں۔
قدیم زمانہ میں مصر اور دوسرے مقامات پر شعریٰ کی پرستش کی جاتی تھی، اور زمین کی شادابی اور تجارتی سرگرمیاں اس سے منسوب کی جاتی تھیں۔ قدیم عرب کا ایک شاعر اپنے ممدوح کے بارے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues