الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۵
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۵
انکار خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طور پر اقرار خدا کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ اس کی ایک واضح مثال سر جیمز جینز کی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) ہے۔
شہد کے بارے میں میں نے ایک انگریزی مضمون پڑھا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر تقریباً پچیس لاکھ پھولوں کا رس چوستی ہیں، تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے:
Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey. شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے، تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔ نظام شمسی (solar system) وہ ہے، جس کے درمیان میں ایک روشن ستارہ (سورج) ہو، اور اس روشن ستارے کے گرد غیر روشن سیارے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہوں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق، معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہو سکتے ہیں۔ کہکشاں (galaxy) اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کر رہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں، جس کا نام ملکی وے (Milky Way) ہے، اور جو رات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں، اور ہمارا نظام شمسی اسی میں واقع ہے۔
سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لیے ہوئے 175 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے ایک چکر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues