Al-Risala · February 2020 · page 11

اختلاف کو نظر انداز کیجیے

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۱

اختلاف کو نظر انداز کیجیے

جنوبی ہند سے ایک عالم دین کا مکتوب موصول ہوا ہے، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تمل ناڈو اور دوسرے علاقوں میں علمائے کرام مختلف اداروں، مثلاً مدرسہ یا مسجد، وغیرہ، سے منسلک ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ان کو ادارے کی انتظامیہ (management) سے کوئی شکایت ہو جاتی ہے، اس وقت وہ منفی رویہ اپنا کر اس ادارے سے نکل کر کسی دوسرے ادارے میں چلے جاتے ہیں، یا ایک نیا ادارہ قائم کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پریشان بھی رہتے ہیں، اور ان کا علمی سفر بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمے داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ علمائے کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کو معلوم نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے، اس کا انھیں علم نہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں، اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ ٹھیک رہے۔ اس معاملے میں علماء کے لیے وہ حدیث رسول واحد راستہ ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کا دو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبار نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔

اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظر انداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں میں شکایت پالنے کی وجہ سے اپنے لیے مسائل میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں، مگر کوئی بڑا علمی ذخیرہ یا کارنامہ نہیں ادا کر رہے ہیں۔ تقریباً ہر عالم اپنی انتظامیہ اور متولیانِ مساجد کے خلاف شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page