لعظ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۸
لعظ
ماجہ، حدیث نمبر 3349، مسند احمد، حدیث نمبر 17186 )۔ یعنی مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا، آپ کہتے ہیں کہ کسی انسان نے پیٹ سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی برتن نہیں بھرا، انسان کے لیے اتنے لقمے کافی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کو سیدھا کر سکے، اگر اور ضرورت ہے، تو ایک تہائی اس کے کھانے کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کے پانی کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کی سانس کے لیے۔ فرانسیسی ڈائرکٹر نے مذکورہ عرب نوجوان کو یہ حدیث دکھائی، اور کہا کہ میں نے اس حدیث رسول سے دس سے زیادہ طبی اصول اخذ کیے ہیں، اور میری ریسرچ ابھی جاری ہے۔ لہذا جاہل اور گنوار تم ہو، نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر اس طالب علم کو اپنے ادارہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ قرآن میں سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (51:47)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے آسمان کو بنایا ہاتھ سے اور ہم یقیناً پھیلانے والے ہیں۔ قدیم مترجمین کی سمجھ میں پھیلانے والے کی معنویت نہ آسکی، اس لیے انھوں نے لموسعون کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں ہے:
وہر آئینہ ما توانا ئیم اور ہم کو سب مقدور ہے اور ہم وسیع القدرت ہیں اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ وغیرہ۔
خالص لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے ۔ کیوں کہ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ " ہم کشادہ کرنے والے ہیں" یا" ہم پھیلانے والے ہیں"۔
ترجمہ کے اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues