لعظ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۹
پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی محدودیت اس کو نہ پاسکی۔ مگر قرآن کے مصنف کو یہ حقیقت اس وقت بھی معلوم تھی کہ جب کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کو نہیں جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے موسعون (ہم پھیلانے والے ہیں) کے لفظ کا انتخاب فرمایا۔
قرآن میں اس طرح کے کثیر شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن عالم الغیب کا کلام ہے، محدود ذہن رکھنے والا انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ مذہب کیا ہے، اس کی تعریف میں علم الانسان کے علماء (anthropologist) کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان کی اکثریت نے عملی ضرورت (working purpose) کے لیے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ مذہب مافوق الفطری قوتوں میں عقیدہ رکھنے کا نام ہے: The belief in power or powers superior to man دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کسی نہ کسی شکل میں ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ تقریباً بلا اختلاف وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا۔ جس کی طرف وہ حفاظت اور پناہ کے لیے دیکھ سکے۔ کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے، کبھی پتھر کے، کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ لیا گیا۔ مگر بہر حال وہ انسان کی نظر میں خدا تھے۔ اس لیے انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کرے۔ کیوں کہ مذہب ایک فوق الفطری طاقت کی پرستش کی صورت میں انسانی فطرت کے ڈھانچے میں مکمل طور پر پیوست ہے:
Man has worshipped them, because religion, as represented in the worship of a supernatural power, is interwoven with entire fabric of human nature. (Encyclopaedia Americana 1961, V. XXIII, p. 354)
موجودہ زمانہ میں مفکرین قانون کی بڑی تعداد تشکیک کی شکار ہے۔ مثال کے طور پر گسٹاؤ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues