Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲
باری تعالیٰ کی صفات کا اعلیٰ ترین سطح پر بیان نقطہ عروج پر ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی شخص قرآن میں دعوت کو نہیں پاتا۔ دوسری ہر چیز آدمی پالیتا ہے مگر کسی کو قرآن میں دعوت نہیں ملتی۔ حالاں کہ امت کی سرفرازی کا تعلق دعوت سے ہے نہ کہ کسی اور چیز سے۔
علامہ اقبال (1938-1877) کا ایک شعر ہے:
شعلہ بن کر پھونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو خوفِ باطل کہ کیا ہے غارت گرِ باطل بھی تو اس قسم کے اشعار لوگ بہت جوش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس قسم کے اشعار جو ذہن بناتے ہیں وہ سراسر غیر قرآنی ذہن ہے۔ قرآن کے مطابق، خاشاکِ غیر اللہ کو جلانا اور باطل کو غارت کرنا خدا کا کام ہے، نہ کہ انسان کا کام۔ اس قسم کے اشعار سے صرف جھوٹا فخر پیدا ہو سکتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی کار آمد ذہن۔ مومن کا اصل کام یہ ہے کہ وہ دنیا والوں کا خیر خواہ (well-wisher) ہو۔ لوگوں کے لیے اس کے دل میں محبت کے چشمے جاری ہو جائیں۔ وہ لوگوں کو آخرت کی دعوت دینے کا حریص بنے، نہ کہ انھیں شعلوں کی نذر کرنے کا حریص۔ اہلِ ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حق کا اعلان کرنے والے بنیں ۔ اس اعلان کا اصل جذبہ خیر خواہی ہونا چاہیے، جس کو قرآن میں نصح کہا گیا ہے (الاعراف، 7:62)۔ یہ داعیانہ جذبہ ہی صحیح ایمانی جذبہ ہے۔ اس ناصحانہ دعوت کے نتیجے میں یا تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ حق کے راستے کو قبول کر لیتے ہیں یا وہ اس کا انکار کر کے سزا کے مستحق بنتے ہیں۔ تاہم اس سزا کا فیصلہ کرنے والا اور اس کو نافذ کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔ عرب ممالک کے سفر کے دوران اگست 1982 میں میری ملاقات ایک مصری نوجوان سے ہوئی تھی۔ ان کا نام ڈاکٹر محمد سعید مراد ہے۔ انھوں نے مصر کے انور سادات (1981-1918)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues