Al-Risala · January 2021 · page 13

Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳

کے بارے میں بتایا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں ان اخوانیوں پر رحم نہیں کروں گا۔ انور سادات نے اسکندریہ کے شیخ المحلاوی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور اس کے بعد تقریر کرتے ہوئے، محمد سعید مراد کے الفاظ میں، کہا: قال السادات عنه في خطبة عندما كان يتحدث عن الجماعات الاسلامية اعتقللها "وهناك رجل من الاسكندرية كان يهاجم النظام ولكنه الآن مرمى فى السجن مثل الکلب" يقصد الشيخ المحلاوى۔ وکان السادات يقول فی خطابه تکرار آانالم ارحم هذه الجماعات۔ (اسکندریہ میں ایک آدمی ہے، وہ حکومت سے ٹکراؤ کرتا ہے، لیکن اب وہ جیل میں کلب کی مانند بند ہے۔ ان کی مراد شیخ المحلاوی تھے۔ اور سادات اپنی تقریروں میں بار بار کہا کرتے تھے کہ میں ان جماعتوں پر رحم نہیں کروں گا)

انور سادات کے یہ الفاظ بہت سخت معلوم ہوتے ہیں۔ مگر اس میں پچاس فی صد غلطی اگر انور سادات کی ہے تو پچاس فی صد غلطی ان حضرات کی جو حکومت ٹکراؤ کی سیاست کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی ادارہ ہو۔ اگر وہاں کوئی شخص ادارے کے صدر کا مخالف بن جائے تو اس کے ساتھ بقدر استطاعت ادارے کے لوگ وہی سلوک کریں گے، جو اپنی استطاعت کے دائرے میں انور سادات نے اپنے مخالفوں سے کیا۔ انور سادات اور ان کے جیسے حکمرانوں کے ظلم کی داستان سنانے والے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ یہ وہی سلوک ہے جو خود اپنے اداروں میں ہورہا ہے: این گناہیست که در شهر شما نیز کنند سارے قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں فطرت کے مظاہر کی ایسی توجیہہ کی گئی ہو، جس سے سائنسی تحقیقات کی نفی لازم آئے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ملتا جو چرچ کی تاریخ میں "گلیلیو" کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسلام میں اس کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی کہ علمی نظریات کے لیے کسی کی پکڑ دھکڑ کی جائے یا اس کو سزا دی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page