Al-Risala · January 2021 · page 14

Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴

نظریاتی احتساب کی مثالیں اسلامی تاریخ میں خالص مذہبی لوگوں کے یہاں نہیں پائی جاتیں۔ صرف معتزلہ کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ معتزلہ کٹر مذہبی لوگ نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے، جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے تھے، اور آزادیٔ فکر کے علم بردار تھے۔ معتزلہ نے عباسی حکمرانوں کی مدد سے اپنے نظریاتی مخالفین کا زبردست احتساب کیا۔ اسی احتساب کی ایک مثال امام احمد بن حنبل ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو زبردست سزائیں دی گئیں۔ صرف اس لیے کہ وہ خلقِ قرآن“ کے مسئلے میں معتزلہ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل کو مسلسل مارا گیا۔ مارنے والے ایک جلاد نے بعد میں اس ضرب کی شدت کے بارے میں کہا تھا: ضربت أحمد بن حنبل ثمانين سوطا، لو ضربته فیلا لهدمته (المنهج الأحمد لأبي اليمن العليمي، ج 1 ص 107)۔ یعنی میں نے احمد بن حنبل کو اسی کوڑے مارے، اگر میں اس طرح کسی ہاتھی کو مارتا تو اس کو گرا دیتا۔

ایک مجذوب تھے۔ وہ گندی حالت میں سڑکوں پر پڑے رہتے تھے۔ لوگ ان سے کچھ کہتے تو ان کا جواب ہمیشہ صرف ایک ہوتا تھا: حرام کھاؤ، چوری کرو، ماں پر سوؤ۔ لوگ حیران رہتے کہ مجذوب صاحب اس قسم کی الٹی بات کیوں کہتے ہیں۔ تاہم مجذوب صاحب نے کبھی اس کی تشریح نہیں کی۔ کوئی شخص ان الفاظ کا مطلب پوچھتا تو وہ بگڑ جاتے۔ مجذوب اسی طرح کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

مجذوب صاحب کے ایک معتقد سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں برسوں تک مجذوب صاحب کے الفاظ پر سوچتا رہا۔ آخر کار میری سمجھ میں آ گیا کہ وہ کیا کہتے تھے۔ ان کا مطلب تھا: غصہ کھاؤ، چھپ کر عبادت کرو، زمین پر سوؤ۔

اسلام توہم پرستی کو مٹانے آیا تھا مگر بعد کے زمانے میں خود مسلمان طرح طرح کے توہمات میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں میں سے ایک ”مجذوب“ کا عقیدہ بھی ہے۔ شریعت میں مجذوب کوئی چیز

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page