Suit 2025, Hotel Sentaur, New Delhi
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵
نہیں۔ مگر لوگ جب کسی کو غیر معمولی حالت میں دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی مجذوب (پہنچے ہوئے شخص) ہیں، اور اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔
مہاتما گاندھی نے آزاد ہندوستان کے کانگریسی حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر کے نمونہ کی پیروی کریں:
We have to follow the example of Abu Bakr and Umar اسلام کے ابتدائی دور میں زندگی کا جو نمونہ ظہور میں آیا وہ ساری انسانی تاریخ کا ایک انوکھا نمونہ تھا۔ خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر اپنے وقت کی انتہائی وسیع اور عظیم سلطنت کے حکمران تھے۔ مگر ان کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ دیکھنے والے ان کو عام شہری سمجھتے تھے۔ حق کو قائم کرنے اور باطل کو مٹانے میں کوئی جذبہ ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔
ان لوگوں کی زندگیاں ساری انسانیت کے لیے معیاری نمونے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو بطور عقیدہ کے نہیں مانتے وہ بھی اگر سنجیدہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو مجبور پائیں گے کہ اپنے حکمرانوں کو ابوبکر و عمر کی مثال دے کر کہیں کہ تم ان کی تقلید کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے پاس دوسرا کوئی نمونہ نہیں جس کو وہ کامل معیار کے طور پر پیش کر سکیں۔
لاش نس (Loch Ness) اسکاٹ لینڈ کی ایک بڑی جھیل ہے۔ 1975 میں ایک امریکی قانون داں نے زمیں دوز کیمرے کے ذریعے اس جھیل کے اندرونی فوٹو لیے۔ ان فوٹوؤں میں جھیل کے اندر کے کچھ مناظر دکھائی دیتے تھے۔ یہ مناظر بادل کے دھبوں کی شکل میں تھے۔ ان تصویری دھبوں کا مطالعہ شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان دھبوں پر قیاس کا اضافہ کر کے سمجھ لیا گیا کہ یہ زندہ جانوروں کی تصویریں ہیں۔ کہا گیا کہ اسکاٹ لینڈ کی اس جھیل کے اندر انتہائی قدیم زمانے کے بعض بہت بڑے بڑے جانور موجود ہیں، جو نظریہ ارتقاء کے مطابق قدیم زمانے میں افراط کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues