Al-Risala · March 2021 · page 33

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳

عرصہ تک میں ان کی رہائش گاہ پر مقیم بھی رہا ہوں۔

موصوف مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولاناتھانوی نے ان کو رسمی بیعت کے بغیر مرید کیا تھا، یعنی مولانا اشرف علی تھانوی نے ان سے مجازی بیعت لی تھی۔ جن دنوں میں ان کے یہاں مقیم تھا (غالباً یہ 1967 کے اوائل کی بات ہے)، میں نے ایک روز ان سے کہا کہ آپ مجھے بیعت کر لیجیے۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ خوش رہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پیدائشی صوفی ہیں ۔ آپ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ کو اسی طرح اپنے حلقہ بیعت میں لیتا ہوں جس طرح مولانا تھانوی نے مجھ کو اپنے حلقہ بیعت میں لیا تھا۔ مولاناعبدالباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے مولاناعبدالباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا تھے۔ ایک بار انھوں نے مجھ کو ایک خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا : باقی میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں ۔

مولانا عبدالباری ندوی کے بارے میں ایک مفصل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ہو، وہ بڑے بڑوں کے ہاتھ میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔

’’مسٹر مولوی‘‘۔ یہ الجمعیۃ ویکلی 7 مارچ اور 14 مارچ 1969 میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔ میں 1948ء میں جماعتِ اسلامی سے متاثر ہوا اور جاری ہی 31 کارکن بنالیا گیا اس ز میں 1948 میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور جلد ہی اس کارکن بنا لیا گیا۔ اس زمانے میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔ 1950 کے لگ بھگ زمانہ میں میرا یہ خیال ہوا کہ میں پاکستان چلا جاؤں، اور وہاں پر کوئی کام کروں۔ رکن جماعت کی حیثیت سے میرے لیے ضروری تھا کہ میں امیر جماعت اسلامی ہند سے اس کی اجازت حاصل کروں۔ اس وقت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی جماعت اسلامی ہند کے امیر تھے۔ میں نے ان کو اجازت کے لیے خط لکھا تو انھوں نے اجازت نہ دی ۔ ان کو یہ تردد تھا کہ میں پاکستان جا کر کوئی کام نہ کر سکوں گا، اور وہاں مشکلات میں پھنس جاؤں گا۔ اس خط و کتابت کا ذکر میں نے مقامی امیر ماسٹر عبد الحکیم انصاری صاحب سے کیا۔ وہ میری اس کو ہرا رکھا ہے محبت میں میرا دل |

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page