Al-Risala · March 2021 · page 34

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴

تجویز سے متفق ہو گئے، اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ پاکستان چلے جائیں۔ وہاں آپ کو کام کے زیادہ مواقع ملیں گے۔

چوں کہ مولانا ابو اللیث صاحب (امیر جماعت اسلامی ہند) مجھے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اس لیے انھوں نے مولانا ابو اللیث صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھا۔ اس خط میں میری تجویز کی پر زور تائید کرتے ہوئے انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں سے ایک جملہ یہ تھا: میں وحید الدین خاں کو عرصہ سے جانتا ہوں ۔ میرا یقین ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک بار طے کر لیں تو ہمالیہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیں“۔ ماسٹر عبد الحکیم صاحب کا یہ خط مولانا ابو اللیث صاحب کو بھیج دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے مجھے اجازت دے دی۔ اگر چہ بعد کو خود میری رائے بدل گئی، اور میں پاکستان نہ جا سکا۔ 15 جولائی 1985 دورِ اول کے مسلمانوں کی اٹھان تواضع (modesty) پر ہوئی تھی، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اٹھان فخر (pride) پر ہوئی ہے۔ ایک لفظ میں یہی وہ فرق ہے جس نے دورِ اول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر دیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ دورِ اول کے مسلمانوں کا آغاز خدا کی دریافت سے ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کی عظمت وکبریائی کو اپنے دل و دماغ میں اتارا تھا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سراپا تواضع بن گئے تھے۔ ان کا سینہ ذاتی بڑائی کے احساس سے آخری حد تک خالی تھا۔

اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دو بیماری اپنے’شاندار‘ ماضی کی دریافت سے آئی ہے۔ ایک، شبلی نے انھیں ”ہیروآنِ اسلام“ کا تعارف کرایا۔ دوسرا، اقبال نے ان کو ماضی کی عظمت کے حصول کے لیے آفاقی بلند پروازی کا درس دیا۔ اسی طرح ہر ایک ماضی کی عظمتوں کو یاد دلا کر ان کے اندر جوش ابھارنے کی کوشش کرتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان ”خدا کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ”اپنی تاریخ کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page