White House is the loneliest place in the world.
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵
سمندر اور اس کی تہہ میں بھی زندگی کے آثار ہیں، زمین کے علاوہ سمندر کی تہہ میں بھی فرقہ وارانہ کشمکش، یہی وہ بنیادی بات ہے جس نے دونوں گروہوں کی سوچ میں فرق پیدا کر دیا ہے۔ دورِ اول کے لوگوں کو خدا کی عظمت کے احساس نے تواضع کا ذہن دیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظمت کے احساس نے فخر کا ذہن دیا ہے۔ تواضع کا ذہن تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کے مقابلہ میں جھوٹا فخر (false pride) تمام خرابیوں کا سر چشمہ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح کا مقام آغاز یہی ہے کہ ان کے اندر سے جھوٹے فخر کا مزاج ختم کیا جائے اور دوبارہ ان کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کیا جائے۔ ہندستان کی وزارت خوراک کے فیصلہ کے تحت یہاں 10 ملین ٹن غلہ بطور بفر خوراک (buffer stock) رکھا جاتا ہے۔ مگر ہندوستان کے اس 10 ملین غلہ کو حفاظت کے ساتھ رکھنے کا انتظام نہیں۔ چنانچہ غلہ چوری ہوتا ہے، چوہے کھاجاتے ہیں، کیڑے لگتے ہیں، برسات میں سڑ کر بے کار ہو جاتا ہے ، وغیرہ ۔ اس کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے مضمون لکھا جس کا عنوان تھا : Cut the system to size یعنی باتوں میں بڑا رکھ کر جتنے انتظام کو سکیں۔ اصل زندگی کے تمام احکام کو کے یعنی اتنا ہی غلہ رکھو جتنا انتظام کر سکتے ہو۔ یہ اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ اگر لفظ بدل کر اس طرح کہا جائے تو وہ اصول ہے—اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر رکھو: Cut yourself to size ان دونوں کا مصدروہ ہے اس کا کانتہ توہیں۔ آپ کے منہ کا رخ کم انسان کی اکثر مصیبتیں صرف اس کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر نہیں رکھتا۔ اگر لوگ اس اصول پر عمل کرنے لگیں تو زندگی کے اکثر مسائل اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ شاہ محمد اسماعیل دہلوی (1831-1779) نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا تھا : ’’اس شہنشاہ (باری تعالیٰ) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو نہیں ہے ، نہ اور بندوں میں ، نہ اور نبیوں میں ، نہ اور ولیوں میں سے ، وہ اتنی شان میں ہے ۔ اتنی بڑائی میں ہے ، اس کا رتبہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے مقابلے میں ، دنیا کی کل مخلوق ، کروڑوں نبی و جن و فرشتے ، جبریل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کر ڈالے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues