Al-Risala · March 2021 · page 36

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶

یہ کتاب چھپی تو علما کی ایک فوج اس کے رَدّ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ علامہ فضل حق خیر آبادی (1797-1861) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا امتناع نظر۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ مثل محمد ممتنع الوجود (ناممکن) ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے بلکہ خاتم الانبیا تھے، اور خاتم الانبیا کا مرتبہ کسی ایک ہی شخص کو مل سکتا ہے۔ اس لیے مثل محمد مقدر حق سبحانہ نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خاتم الانبیا کا مماثل (مانند) پیدا کرنے پر خدا قادر نہیں۔ اس پر مولانا حیدر علی رام پوری نے لکھا کہ ابن عباس کا ایک اثر ہے جس کے مطابق اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں الگ الگ انبیاء ہیں (سَبْعَ أَرْضِيْنَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ) مستدرک الحاکم، اثر نمبر 3822۔ اس اثر سے استناد کر کے انھوں نے کہا کہ اللہ مثل خاتم الانبیا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ جب سات زمینیں ہیں تو سات خاتم الانبیا کی ضرورت ہوئی۔ مرزا غالب (1869-1797) نے ایک اور نکتہ نکالا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ عالم میں تو ایک خاتم الانبیا کے سوادو سر اخاتم الانبیا پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن خدا اس پر قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کرے اور اس میں موجودہ عالم کے خاتم الانبیا کی طرح ایک اور خاتم الانبیا مبعوث فرمائے۔ اس طرح کی بحثیں برسہا برس تک جاری رہیں۔ دونوں طرف سے عجیب عجیب دلائل دیے جاتے رہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں مسلمانوں کے ذہنی افلاس (intellectual dwarfism) کا حال کیا ہو گیا تھا۔ بے معنی موشگافیوں کو وہ علم سمجھتے تھے اور بے فائدہ بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں۔ دانیال لطیفی صاحب (پیدائش 1917) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ (بیرسٹر)ہیں۔ ہیں۔ ان کی تعلیم زیادہ تر انگلینڈ میں ہوئی ہے۔ وہ 1928 سے 1939 تک تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان میں رہے ہیں۔ انھوں نے انگلینڈ سے قانون کی ڈگری لی۔

انھوں نے تعلیم کے زمانے کا ایک واقعہ بتایا۔ ان کے ساتھ ایک انگریز نوجوان تھا، جس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page