follow one, respect all
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲
زمانے سے بے خبر ہو، اور وہ امن کے زمانے میں جنگ کی تیاری کرے، اور پھر اپنے زمانے کے لوگوں کے خلاف لڑائی چھیڑ دے تو بلاشبہ اس کا منصوبہ غلط ہو جائے گا۔ اپنے جان و مال کو قربان کرنے کے باوجود وہ کوئی مثبت نتیجہ (positive result) حاصل نہ کر سکے گا۔ مدارس کے تعلق سے مزید تفصیل میری کتاب "علماء اور دور جدید"، اور "دین و شریعت" میں دیکھی جاسکتی ہے۔ س: آپ بصیر زمانہ بننے پر بہت زور دیتے ہیں، کیا آپ سے پہلے کسی عالم نے ایسا کہا ہے؟ ج: قدیم علما کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہے۔ مثلاً وہب بن منبہ (وفات 114ھ) نے کہا ہے کہ آل داؤد کی حکمتوں میں ایک یہ ہے: حَقٌّ عَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ عَارِفًا بِزَمَانِهِ (الصمت وآداب اللسان لابن ابی الدنیا، اثر نمبر (31) ۔ یعنی عقلمند انسان (wise person) پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ اسی طرح ابن الحاجب الکردی المالکی (وفات 646ھ) کا قول ہے: وَمِنْ شِيَمِ الْعَالِمِ أَنْ يَكُونَ عَارِفاً بِزَمَانِهِ (جامع الأمهات لابن الحاجب، صفحہ 575) ۔ یعنی عالم کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ یہی بات ابن عبد البر (وفات 463 ھ) نے بھی اپنی کتاب الکافی فی فقہ اہل المدینہ (جلد 2، صفحہ 1132) میں لکھی ہے۔ ابن کثیر (وفات 774ھ) نے اپنے استاد برہان الدین الفزاری کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: عَارِفًا بِزَمَانِهِ (البدایۃ والنہایۃ، جلد 14، صفحہ 167) ۔ یعنی وہ اپنے زمانے سے باخبر عالم تھے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب در المختار (صفحہ 95) میں اس تعلق سے ایک با معنی قول ان الفاظ میں آیا ہے: مَنْ لَمْ يَكُنْ عَالِماً بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (جو اپنے زمانے کا عالم نہ ہو، وہ جاہل ہے)۔ مشہور حنفی فقیہ ابن عابدین شامی (وفات 1889) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں لکھا ہے: وَمَنْ لَمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (الرد المختار، جلد 3، صفحہ 724) ۔ یعنی جو اپنے زمانے والوں کے ٹریڈیشن سے بے خبر ہو، وہ جاہل ہے۔ تو میں نے جو بات کہی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ میں نے جدید اسلوب میں وہی بات دہرائی ہے، جو قدیم علما کہتے رہے ہیں۔
س: 96 سالہ زندگی کے تجربات کی روشنی میں ہم جاننا چاہیں گے کہ ایک فرد کو کن اصولوں کو مدنظر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues