Al-Risala · April 2021 · page 40

گه پيري کتاب‌خانوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

سی پی ایس مشن کی آئیڈیالوجی کو اس سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف انداز سے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر قاسم ندیم صاحب (پاکستان) صدر اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کو سوال وجواب کے انداز میں لوگوں تک پہنچارہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کیسے کیسے مخفی طریقوں سے سی پی ایس انٹرنیشنل کے کام کو آگے بڑھارہا ہے، اس کا اندازہ مجھے اس میسج سے ہوا جو پنجاب کے ایک چھوٹے شہر سے مجھے موصول ہوا ہے۔ وہ میسج یہ ہے: "السلام علیکم سر! کیا میں اپنے کنٹیکٹس اور گروپس میں اس میسج کو سینڈ کر سکتا ہوں، اور کیا آخر میں اپنے ادارے کا نام اور ایڈریس لکھ سکتا ہوں کیوں کہ اپنے گاؤں میں میں نے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا ہے۔ " میں نے اس کو اجازت دے دی، اور یہ لکھا: بالکل آپ اس کو استعمال کر کے دعوت وتبلیغ کا کام جاری رکھیں، اللہ تعالی آپ کی مدد فرمائے۔ قرآن کا پیغام ہمارے پاس لوگوں کی امانت ہے۔ اسے ہر زبان میں سارے انسانوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

صدر اسلامی کو ساری دنیا میں پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ذیل میں چند افراد کے تاثر دیے جارہے ہیں: مولانا صاحب کی ذکر کردہ باتوں میں سب سے زیادہ متاثر کن بات جو مجھے لگی، وہ حدیبیہ کی صلح اور یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ یعنی بغیر کسی نزاع کے مشرک بادشاہ سے عہدے کی درخواست کرنا اور لوگوں کی فلاح کے کام کرنا۔ یہ فلاح کا پہلو دین کا اہم ترین پہلو ہے جسے آج کل موضوع نہیں بنایا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پوری امت ذہنی اور فکری غلام بنی ہوئی ہے، ان اقوام کی جو غیر نزاعی اعتبار سے کام کرتے ہیں۔ حدیبیہ کی صلح سے یہ سبق ملتا ہے کہ بغیر کسی اعتراض کے فریق ثانی کے ساتھ یک طرفہ صلح کرو، تاکہ دعوت کا موقع مل سکے۔ (ڈاکٹر فوزیہ انور، کراچی) مولانا صاحب کے اس جملے نے میری زندگی بدل دی— ہر روز انسانوں کی موت اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ اس دنیا میں بظاہر کامیاب آدمی کی خوشی اتنی ہی بے حقیقت ہے جتنا کہ کا بظاہر ناکام آدمی کا غم۔ (دانیال طاہر، کراچی)

مولانا صاحب کو اب تک جتنا پڑھ پایا ہوں، ان میں سب سے بڑی بات یہ سمجھ میں آئی ہے کہ زندگی میں ہر بات اور ہر کام میں مثبت ذہن کا پہلو اولین ترجیح رہے اور رد عمل کی نفسیات سے حتی الامکان بچا جائے ۔ مولانا نے زندگی میں ہر بات میں بھڑک جانے کو تمام مسائل کی وجہ بتایا ہے، اور صبر وتقویٰ کو اس کا حل۔ الحمد للہ، یہ اصول زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page