Al-Risala · April 2021 · page 41

گه پيري کتاب‌خانوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱

میں بہت حوصلہ عطا کرتا ہے (شجاعت علی، لندن)

مولانا وحید الدین خان کی کتاب "اللہ اکبر" بہت عمدہ کتاب ہے۔ یہ آپ کو خدا کے وجود اور اس پر یقین سے لے کر انسانی تخلیق کے حقیقی مقاصد تک لے جائے گی۔ یہ کتاب "بندے" میں "بندگی" کے احساس کو اجاگر کرتی ہے، اور اس کو مقصد تخلیق سے آگاہ کرتی ہے۔ (محمد مجاہد اشرف، پنجاب یونیورسٹی لاہور) رب کی توفیق سے میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کافی کتابوں کا صرف مطالعہ ہی نہیں کیا، بلکہ انہیں بار بار پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کی، جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مولانا صرف ایک عالم دین ہی نہیں بلکہ دورِ جدید کے ایک محقق ، مجدد اور مفسر ہونے کے ساتھ ایک بہترین سائکا لو جسٹ بھی ہیں۔ مولانا کی کوئی بھی کتاب ہو، اس کا ایک ایک لفظ آپ کے دل ودماغ سے خود بخود ہی تصدیق ہوتا چلا جاتا ہے۔ آپ کو یوں لگتا ہے کہ شاید یہ آپ ہی کے دل کی بات تھی، جو مولانا نے لکھی ہے۔ مولانا ایک ایسا سرما یہ ہیں کہ جن کے لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ شاید ہی ایسا کوئی دوسرا شخص صدیوں تک ہمیں مل سکے۔ مولانا کی کتابوں میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ ملی وہ یہ کہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزار لو۔ اس سے تمھیں خدا مل جائے گا، اور جب خدا مل گیا تو سب کچھ مل گیا۔ میرا یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں، بلکہ حقیقت ہے کہ اگر میں مولانا کو نہ پڑھتا تو شاید آج میں اس دنیا میں نہ ہوتا۔ مولانا کی کتابوں نے مجھے ایک نئی زندگی دی، مجھے جینے کا ایک انوکھا ڈھنگ دیا، میرے سامنے زندگی کی حقیقت کو بیان کیا، مجھے خدا سے ملنے کا راستہ دکھایا۔ مولانا کی کتابوں نے مجھے میری اہمیت بتائی، میری آنکھوں کے سامنے سے فریب کے پردے اٹھا دیے۔ مجھے یہ سکھایا کہ میری زندگی ایک بامعنی زندگی ہے۔ میں دنیا میں با مقصد زندگی گزارنے کے لیے بھیجا گیا ہوں، نہ کہ بے مقصد ۔ مولانا اور مولانا کی پوری ٹیم میری ہر دعا میں شامل ہے۔ (ابراہیم، لاہور) مولانا صاحب کو میں نے اسٹڈی کیا ہے۔ مجھے ہر وقت مولانا کے لٹریچر سے امید اور صبر کی غذا حاصل ہوتی ہے۔ میرے خیال میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے یہی دو اصول کافی ہیں۔ (محمد داؤد سوراب، بلوچستان) مولانا صاحب کی کتابوں نے میری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ یہاں ان میں سے چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ 1۔ میں منفی (negative) سے مثبت (positive) ہوگیا ہوں۔ 2۔ میرا مزاج داعیانہ ہو گیا ہے۔ 3۔ سائنس کی ہر ایجاد میرے ایمان میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہے۔ 4۔ غیر مسلم قوم سے نفرت اب محبت میں بدل گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، مولانا کی کتابوں سے پہلے میں بے شعور (immature) تھا اب میچور (mature) ہو گیا ہوں ۔ (گل رحمان، لکی مروت، پختونخوا)

مولانا صاحب کی تحریروں اور تقریروں سے میرا تعلق تین سال سے ہے۔ مولانا میں ایک کمال یہ ہے کہ ان کی جو بھی تحریریں ہیں وہ موجودہ دور کے مطابق انسان کی عقل میں صحیح فٹ آتی ہیں۔ الحمد للہ، زندگی کا مقصد سمجھ میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page