Al-Risala · April 2021 · page 42

گه پيري کتاب‌خانوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۴۲

آ گیا ہے، میرے اندر سے انا (ego) اور ضد اور حسد ختم ہوا ہے۔ میں نے یہ سیکھا ہے اپنے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ فطرت کے قانون کو بہت قریب سے جانا ہے جس کی وجہ سے حقیقت کے قریب ہوا ہوں ۔ (عرفان رحمان، رحیم یار خان، پاکستان)

م مولانا کی کتابوں کی سب سے بڑی خوبی اس سائنسی دور میں سائنسی اپروچ ہے۔ وہ جو کچھ بھی لکھتے ہیں موجودہ ذہن کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں، اور مدلل اور سادہ انداز میں لکھتے ہیں۔ مولانا کی کتابیں عالم و طالب ، عام وخاص، سائنس دان اور آرٹسٹ الغرض سب کے لیے یکساں مفید ہیں۔ " مذہب اور سائنس" جیسی کتاب میں مولانا کے مطالعہ پر حیرت ہوتی ہے کہ ان کی نظر دینی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی بہت گہری ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے جس طرح منکر خدا سائنس دانوں اور دیگر مفکرین کی غلطیاں واضح کر کے بیان کی ہیں، یقیناً قابل داد ہیں۔ (حفیظ الرحمن، بونیر، خیبر پختونخوا)

میں مولانا کی کتاب " دین کامل" پڑھ رہا ہوں ۔ ابتدائی پندرہ صفحات پڑھ کر میرا دل نرم ہوا۔ کچھ جملے ایسے ہیں جو میرے دماغ کو ہٹ (hit) کرتے ہیں۔ مثلاً ایک عنوان ہے "مثل صحابہ ایمان" (صفحہ 13) ۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مثل صحابہ ایمان کیا ہے، اور مثل یہودا ایمان کیا۔ یہ تقابل بہت عجیب ہے۔ مثل صحابہ ایمان کیا ہے؟ یہ مثل یہودا ایمان جاننے سے سمجھ میں آیا۔ اسی طرح ایک جملہ ہے" ایک ایمان وہ ہے جو بس جامد عقیدہ ہو، جو آدمی کے ذہنی اسٹور میں بہت سی چیزوں میں سے ایک چیز کے طور پر پڑا ہوا ہو ۔ وہ آدمی کی زندگی کا کل نہ ہو بلکہ وہ اس کا صرف ایک جز ہو۔ " میرا تجربہ یہ ہے کہ مولانا کی کتابیں پڑھتے رہنے سے اصل چیز پر فوکس بنتا ہے، اور دوسرے علما کی کتابیں پڑھنے سے ایسا نہیں ہوتا۔ (مولانا عبدالباسط عمری، گلبرگہ، کرناٹک ) سچ تو یہ ہے اگر میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں نہ پڑھی ہوتی، اور ڈائریکٹ برٹرینڈ رسل اور کارل مارکس یا چارلس ڈارون ، وغیرہ کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیتا تو میرے لیے صورت حال بہت مختلف اور نقصان دہ ہوسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مجھے مولانا کا تعارف وقت پر ہو گیا۔ مولانا صاحب ہمارے لیے حقیقت میں ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں، ورنہ جو نام نہاد علما آج ہیں، ان سے کسی ذی شعور آدمی کو سیکھنے اور سمجھنے کو کچھ نہیں ملتا ہے۔ میرے احساسات کو صرف وہی سمجھ سکتے ہیں، جو ان کو پڑھ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو صحت اور تندرستی کے ساتھ رکھے آمین۔ (عطا المومن فیصل آباد پاکستان)

جن چند شخصیات نے مجھ پر سب سے گہرا اثر ڈالا ہے، ان میں ایک نام مولانا وحید الدین خان صاحب کا ہے۔ بہت کم ایسا ہوا کہ مولانا نے کسی مسئلہ پر اپنی رائے دی ہو، اور مجھے اس سے اختلاف ہوا ہو۔ بلکہ سچ کہوں تو مرزا غالب کے الفاظ میں—

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page