هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
اس سلسلے میں مولانا محمد عبد الحق (انچارج دفتر دار العلوم دیو بند) کا ایک مضمون الجمعیۃ4 جنوری 1975 میں چھپا ہے۔ انھوں نے اس قصہ کو سراسر بے بنیاد بتایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی نے اپنی ساری عمر کبھی دار العلوم دیو بند سے کوئی تنخواہ ہی نہیں لی (ملاحظہ ہو، سوانح قاسمی جلد اول، صفحہ 536)۔
جب مولانا نانوتوی دار العلوم دیو بند سے سرے سے کچھ تنخواہ ہی نہیں لیتے تھے تو ان کے بارے میں مذکورہ قصہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
میں نے ایک خانقاہ میں چند دن گزارے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ زور و شور کے ساتھ ذکر بالجہر کر رہے ہیں۔ میں نے وہاں کے ایک عالم دین سے کہا یہ ذکر بالجہر جس کی گونج ہر خانقاہ میں سنائی دیتی ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن کے نص صریح کے خلاف ہے۔ کیوں کہ قرآن میں آیا ہے: وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (7:205)_ یعنی اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے یہاں اس قسم کے ذکر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس زمانے میں مطلق اس کا رواج نہیں تھا کہ لوگ بیٹھ کر بلند آواز سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار کر رہے ہوں۔
انھوں نے جواب دیا۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی روحانیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو آپ کو دیکھتا تھا وہ ایمان کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا تھا۔ مگر بعد کے دور میں جب یہ چیز باقی نہ رہی تو بزرگوں نے ذکر بالجہر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سے دل پر ضرب لگائی جاتی ہے اور دل کو پاک صاف کیا جاتا ہے۔ ’’ بزرگوں‘‘ کی طرف سے اس قسم کا جواب دیا جانا اور مریدوں کا نہایت وفاداری کے ساتھ اس کو محفوظ کر لینا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم قوم میں دینی فکر کی سطح آج کتنی پست ہو چکی ہے۔ ذکر عبادت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ عبادت کے لیے یہ امر مسلم ہے کہ یہ اجتہاد کے دائرے سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues