گه پيري کتابخانوں
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۴۳
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے میری تعلیم پہلے کالج میں ہوئی، پھر میں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ جدید تعلیم کی بنا پر کئی ایسے سماجی مسائل تھے، جن میں روایتی طبقے کی رائے مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ لیکن دین کا حوالہ ہونے کی وجہ سے میں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔ اس کے بعد جب مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابیں پڑھی، اور ان کی رائے جاننے کا موقع ملا تو دین کو نئے پہلو سے دیکھنے کا موقع ملا، اور دینی احکام کو سمجھنے کی نئی راہیں کھلیں۔ یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں دین کو قابل فہم اور قابل عمل بنانے میں مولانا کی تحریروں نے ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ اللہ مولانا وحید الدین خان صاحب کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور امت پر ان کے سائے کو تادیر سلامت رکھے آمین ثم آمین۔ (عمران صدیقی ندوی، ممبئی) • معرفت رب، دعوت حق، حکمت حیات پر مشتمل مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابیں دور جدید میں علما کی اپنی عارفانہ اور داعیانہ زندگی کے لیے ایک انمول خزانہ ہیں۔ یہ فکری زندگی کے لیے مہمیز کا کام دیتی ہیں۔ ایک عالم دین کی حیثیت سے میرا تجربہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مدارس کے فارغین جدید عالمی اپروچ سے بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ ان کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دور جدید کے تعلق سے ان کا رویہ اس عربی مقولہ کا مصداق ہے : من جهل شيئاً عاداه (جو کسی چیز سے بے خبر ہو، وہ اس سے دشمنی کرتا ہے۔ ) حالاں کہ جدید کلچر میں جہاں بظاہر نا پسندیدگی کا پہلو ہے، وہیں بہت سی باتیں عین اسلام کے موافق ہیں۔ بلکہ موافق اسلام باتیں زیادہ ہیں۔ اپنے زمانے کو جاننا اور اس کے مطابق رہنمائی دینا ابتداء سے علما کا طریقہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ابن عابدین کا ایک بامعنی قول ان الفاظ میں آیا ہے: مَنْ جَهِلَ بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلُ (مجموعہ رسائل ابن عابدین، صفحہ 131)۔ یعنی جو اپنے زمانے سے لاعلم رہا، پس وہ جاہل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے زمانے کو جانے بغیر اسلام کی طرف صحیح رہنمائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ موجودہ دور میں اگر کسی کے دل میں اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے کی تمنا ہو، اور اس تعلق سے اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنا چاہتا ہے تو موجودہ دور میں ایک صدی پر محیط تجربات پانے والے عالم دین، داعی، زمانہ شناس انسان کی علمی تحقیقات اور ان کی تحریروں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ انھوں نے اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کیا ہے۔ جدید دور کے رجحان کے اعتبار سے اسلام کو دین رحمت اور دین امن کے طور پر مولانا نے واضح کیا ہے۔
اس کے برعکس، عام مسلم اہل علم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جنگ کے فضائل کو جانتے ہیں مگر امن کے فوائد سے ناواقف ہیں۔ حالاں کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے دور میں جنگی بہادری دکھانا اور جنگ کو ایمان و عقیدے کی طرح مذہب کا ابدی جز ء بتانے کی کوشش کرنا نادانی، اور اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ یہ جدید دور کے مواقع سے بے خبری کا اعلان ہے۔ پر امن زندگی اور پر امن اقدام ہی اسلام کا مطلوب ہے۔ کیوں کہ اسلام ایک آئیڈیالوجی ہے، اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues